کراچی: پل گرگیا، چھ لاشیں برآمد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں ناردرن بائی پاس پل کا ایک حصہ منہدم ہو نے سے چھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ شیرشاہ میں بھاری ٹریفک کی آمدورفت کے لیے بنائے جانے والے اس بائی پاس پل کا گزشتہ ماہ افتتاح کیا گیا تھا اور ہفتے کی دوپہر پل کا تقریباً پانچ سوگز حصہ گر گیا جس میں نیچے سے گزرنے والی کئی گاڑیاں ملبہ تلے دب گئیں۔ ڈی آئی جی فلک خورشید نے بتایا ہے کہ چار لاشیں سول ہسپتال پہنچائی گئی ہیں جبکہ دو ملبے میں دبی ہوئی ہیں جن میں ایک بچہ ہے۔اس حادثے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ملبے تلے دبے ہوئے لوگوں کو نکالنے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اس حادثے میں زخمی ہونے والے احسان نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنی گدھا گاڑی پر جا رہا تھا کہ اچانک دھماکہ ہوا اور پل نیچے گرگیا۔ کچھ ملبہ اس کے گدھے پر گرا جو دب کر ہلاک ہوگیا مگر وہ خود معجزانہ طور پر بچ گیا اور اس کا ایک ہاتھ زخمی ہوا۔احسان کے مطابق پل گرتے ہی ایک گاڑی میں موجود شخص نے مدد کے لیے چیخنا شروع کیا تو لوگ بڑی تعداد میں موقع پر پہنچے جنہوں نے دو افراد کو باہر نکالا۔ عینی شاہدین کے مطابق پل کا ایک حصہ جوڑ ہٹنے کی وجہ سے پورا نیچے جاگرا۔ عینی شاہدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملبے میں قریباً چھ گاڑیاں دبی ہوئی ہیں جن میں منی بس، کار اور ٹینکر شامل ہیں۔
واقعے کے بعد امدادی کارروائیوں کا آغاز ہوچکا ہے، ایدھی ایمبولینس سمیت وفاقی وزیر شمیم صدیقی، سٹی ناظم مصطفیٰ کمال اور دیگر حکام پہنچ چکے ہیں۔ شہری حکومت کی جانب سے ملبہ ہٹانے کے لیے کرینیں منگوائی گئی ہیں تاہم ملبہ کا وزن زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ کرینیں موثر ثابت نہیں ہو سکی ہیں۔ حکام کی جانب سے یہ اعلانات بھی کیے جا رہے ہیں کہ عوام پل سے دور رہیں کیونکہ دوسرا حصہ بھی گر سکتا ہے۔ وزیرِاعظم شوکت عزیز نے کراچی میں شیر شاہ پل کے حادثہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پُل کے گرنے کے محرکات جاننے کے لیے تحقیقات کا حکم دیا ہے جبکہ گورنر سندھ نے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے چیف سیکرٹری سندھ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ وزیرِاعظم ہاؤس کے میڈیا سیل کی جانب سے جاری کیے گئے ایک پریس ریلیز کے مطابق وزیرِاعظم نے وفاقی وزیر برائے مواصلات شمیم صدیقی کو ہدایت کی ہے کہ حادثے کے ذمہ دارافراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ پُل حادثہ کے حوالے سے وزیرِاعظم نے صوبہ سندھ کے گورنر عشرت العباد اور وزیرِاعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم سے ٹیلیفون پر بات کی اور ان سے واقعہ کی تفصیل معلوم کیں اور کہا کہ ہلاک شدگان کے لواحقین کو معاوضہ کی فوری ادائیگی کی جائے اور زخمیوں کو فوری طبی امداد دی جائے ۔ نادرن بائی پاس کراچی کے میگا پراجیکٹس میں سےایک ہے جس کا اسی سال اگست میں صدر پرویز مشرف نے افتتاح کیا تھا۔ چھبیس کلومیٹر طویل پل کی تعمیر پر ساڑھے تین بلین روپے لاگت آئی تھی۔ یہ پل شہر میں ٹریفک کے مسائل سے نمٹنے کے لیے بنایا گیا تھا اور ٹریفک کے حالیہ مسئلے کے بعد شہر میں بھاری ٹریفک کی آمد پر پابندی عائد کر کے انہیں نادرن بائی پاس سے گزرنے کا پابند کیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں شِپنگ: آتشزدگی کی تحقیقات20 August, 2007 | پاکستان کراچی: تجاوزات ہٹانے کا حکم21 August, 2007 | پاکستان کراچی میں بارش جاری، سات ہلاک22 August, 2007 | پاکستان مندی: سرمایہ کاروں کا ردِ عمل23 August, 2007 | پاکستان کراچی: طلبہ تصادم، مزید ایک ہلاک25 August, 2007 | پاکستان ستیوں کا ڈیرہ یا شاہی قبرستان27 August, 2007 | پاکستان بارہ مئی:’سندھ حکومت اور ایم کیوایم ذمہ دار‘27 August, 2007 | پاکستان جناح ہسپتال میں حالات معمول پر27 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||