BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 01 September, 2007, 16:11 GMT 21:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اور پل گرتا ہی چلا گیا‘

ملبے میں دبی ہوئی ایک گاڑی
پل سے گرنے والی گاڑیوں میں ٹینکر اور ایک بڑا ٹرالر بھی شامل ہے
کراچی کے علاقے شیرشاہ میں بھاری ٹریفک کی آمدورفت کے لیے بنائے جانے والے ناردرن بائی پاس پل تقریباً پانچ سوگز ہفتے کی دوپہر منہدم ہوگیا جس سے جہاں چھ افراد ہلاک ہوئے وہیں حادثے کے وقت پل کے نیچے سے گزرنے والی کئی گاڑیاں ملبہ تلے دب گئیں۔

اس حادثے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔ پل گرنے کے حادثے میں بچ جانے والوں میں نو عمر احسان بھی شامل ہیں جنہوں نے پل گرنے کے مناظر اور زندگی و موت کے فرق کو چند قدم کے فاصلے سے دیکھا۔

احسان کا کہنا ہے کہ’دوپہر کا وقت تھا اور لوگوں کی بڑی تعداد گرمی سے بچنے کے لیے پل کے سائے میں کھڑی تھی کہ اچانک ایک دھماکے کی آواز کے ساتھ ہی پل گرتا چلا گیا‘۔

گدھا گاڑی چلانے والے احسان کے مطابق ’ پل کا ایک حصہ میری گدھا گاڑی پر گرا جس سےگدھا ہلاک ہوگیا جبکہ مجھ بھی زخم آئے‘۔ احسان نے بی بی سی کو بتایا کہ اُس نے دو افراد کو زخمی حالت میں ملبے سے نکالا جنہیں ہسپتال روانہ کر دیا گیا۔احسان کا کہنا تھا کہ کچھ دیر بعد اس کے اوسان خطاء ہوگئے اور جب اُسے ہوش آیا تو قریبی فیکٹری میں تھا جہان لوگ اُسے اُٹھا کر لے گئے تھے۔

احسان
پل کا ایک حصہ میری گدھا گاڑی پر گرا:احسان

احسان کی گدھا گاڑی سے چند قدموں کے فاصلے پر پل کے ملبے سے ایک مکئی فروخت کرنے والے کی ہاتھ گاڑی بھی جھانک رہی تھی جس کی انگیٹھی سے دھواں اُٹھ رہا تھا تاہم اُس کے مالک کا کہیں پتہ نہ چل سکا۔ اس سے کچھ دور دو نئی کاریں ملبے کے نیچے دبی نظر آ رہی تھیں۔

اِن کاروں کے قریب ہی ملبے تلے دب کر ہلاک ہونے والے ایک شخص کا پیر نظر آ رہا تھا جس کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ کوئی راہگیر رہا ہوگا۔

واقعہ کی اطلاع پر لوگوں کی بڑی تعداد جائے حادثے پر پہنچ گئی اُن میں بعض ایسے لوگ بھی تھے جنہون نے ٹی وی چینلز پر چلنے والے مناظر کی مدد سے اپنے پیاروں کی گاڑیاں شناخت کیں۔ موقع پر آنے والے پریشان حال ایک نوجوان کا کہنا تھا کہ پل کے نیچے دبی کار اُس کے بھائی کی ہے۔ وہ نوجوان امدادی کارکنوں سے گاڑی نکالنے کے لیے اپیل کر رہا تھا۔

یہ منظر پل کی ایک جانب کا تھا جبکہ دوسری جانب کا منظر قدرے مختلف تھا جہاں پل کے منہدم ہونے کے بعد اوپر سے نیچے گرنے والی گاڑیاں پڑی تھیں۔پل سے گرنے والی گاڑیوں میں ایک پولیس وین اور مقامی سیمنٹ فیکٹری کا ٹینکر اور ایک بڑا ٹرالر بھی شامل تھا۔

اسی بارے میں
شِپنگ: آتشزدگی کی تحقیقات
20 August, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد