شِپنگ: آتشزدگی کی تحقیقات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں واقع پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کی عمارت میں اتوار کی دوپہر لگنے والی آگ کو پیر کی علی الصبح بجھا دیا گیا ہے تاہم تپش کی وجہ سے عمارت کا جائزہ لینے میں تاخیر ہو رہی ہے۔ کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی تکنیکی ٹیم عمارت کا جائزہ لینے کے بعد عمارت کے استعمال کے لئے مخدوش قرار دینے یا نہ دینے کے بارے میں اپنی سفارشات حکومت کو پیش کرے گی۔ اتھارٹی کے چیف بلڈنگ کنٹرولر رؤف اختر فاروقی نے کہا ہے کہ اس وقت عمارت کو مخدوش قرار دینے کے بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔ اس وقت عمارت میں بہت زیادہ تپش ہے جس کی وجہ سے داخل نہیں ہوا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر آج شام تک تپش کم ہو جاتی ہے تو ہماری ایک ٹیم ہے، ڈینجرس بلڈنگ کمیٹی کی جو تکنیکی ماہرین پر مشتمل ہے وہ جائزہ لینے کے بعد بتائے گی کہ کیا پوزیشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ آنے میں تین سے چار دن لگ سکتے ہیں۔ اس سال فروری کے مہینے میں بھی اس بلڈنگ میں آگ لگی تھی اور کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے مرمت تجویز کی تھی کیونکہ اس وقت اتنی شدید آگ نہیں لگی تھی۔ حکام کے مطابق آگ لگنے کی وجہ اب تک معلوم نہیں کی جا سکی ہے جبکہ نقصانات کا اندازہ بھی نہیں لگایا گیا ہے۔ پورٹ اینڈ شپنگ کے وفاقی وزیر بابر غوری نے بتایا کہ اس سلسے میں ایک تحقیقاتی ٹیم جلد از جلد رپورٹ پیش کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ جلنے والی سات منزلوں میں پی این ایس سی کا دفتر موجود نہیں تھا بلکہ نجی کمپنیوں کے دفاتر موجود تھے۔ انہوں نے تخریب کاری کے امکان کو خارج از امکان قرار نہیں دیا لیکن باور کرایا ہے کہ حقیقت تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کے بعد ہی سامنے آئے گی۔ |
اسی بارے میں شِپنگ کارپوریشن میں آتشزدگی19 August, 2007 | پاکستان راولپنڈی: ہسپتال میں آتشزدگی03 May, 2007 | پاکستان کراچی: آتشزدگی سےنو افراد ہلاک07 January, 2006 | پاکستان بس آتشزدگی، 40 باراتی ہلاک11 December, 2005 | پاکستان امدادی سامان میں آتشزدگی20 October, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||