صرف بائیس لاشوں کی شناخت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اتوار کے روز بس میں آتشزدگی کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی آخری رسومات میں شرکت کرنے کے لیے سینکڑوں سوگواران لاہور پہنچ گئے۔ شادی میں شریک ہونے والے خاندان سے بھری اس بس میں آتشزدگی سے کم از کم چالیس افراد ہلاک ہو گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے ابھی تک بائیس لاشوں کی شناخت کی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق کئی لاشیں ناقابل شناخت ہو چکی ہیں۔ پولیس کا خیال ہے کہ جس شخص نے یہ آگ لگائی تھی وہ بھی اس حادثہ کی نذر ہو گیا ہے اور اس میں تخریب کاری کا کوئی امکان نہیں ہے۔ نامہ نگاروں کے مطابق لاہور میں حکومتی اہلکار آتش بازی کی دکانوں پر چھاپے مار رہے ہیں۔ پاکستان میں آتش بازی کے سامان کی نامناسب دیکھ بھال اور کم معیار کی وجہ سے کئی ہلاکتیں واقع ہوتی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کے بس میں تقریباً پچاس افراد سوار تھے۔ پولیس کے تفتیشی افسر رانا شبیر احمد نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہم نے بائیس لاشوں کی شناخت کر لی ہے جن میں گیارہ عورتوں اور دس مردوں کے علاوہ نو سال کا ایک بچہ بھی شامل ہے ‘۔
ڈاکٹروں نے بتایا کہ چند خواتین کی شناخت ان کے زیورات کی پہچان سے ممکن ہوئی کیونکہ ان کی لاشیں ناقابل شناخت ہو گئی تھیں۔ بچ جانے والے بہت سے افراد کے جسم پچاس فیصد سے زائد متاثر ہیں۔ جلی ہوئی بس کا ملبہ مزید تفتیش کے لیے پولیس سٹیشن لے جایا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے آگ لگانے والے شخص کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے تاہم انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ کیس اب خانہ پری سے زیادہ کچھ نہیں ہے کیونکہ ملزم مرنے والوں میں شامل ہے۔ دلہن کے والد محمد وزیر خان کا کہنا ہے کہ وہ دھماکے کے بعد باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے جبکہ ان کے کپڑوں میں آگ لگی ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’اس سانحے نے ہمیں ہلا کر رکھ دیا ہے‘۔ لاہور سے بی بی سی کے نمائندہ شاہد ملک نے بتایا کہ ماضی میں بھی اس قسم کے کئی واقعات ہو چکے ہیں لیکن یہ اپنی نوعیت کی سب سے بڑی تباہی ہے۔ | اسی بارے میں بس آتشزدگی، 40 باراتی ہلاک11 December, 2005 | پاکستان بس آتشزدگی، تحقیقات شروع12 December, 2005 | پاکستان پیٹرول کی دکان میں آگ5 زخمی10 June, 2005 | پاکستان ایک ہلاک، سو دکانیں نذر آتش23 February, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||