شِپنگ کارپوریشن میں آتشزدگی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں کراچی کے ساحل کے قریب واقع پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کی عمارت میں آتشزدگی کی وجہ سے آگ بجھانے والے عملے کے چار اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔ عمارت کے آتشزدہ حصوں میں موجود اہم دستاویزات بھی خاکستر ہوگئیں ہیں۔ فائر بریگیڈ کے عملے کے مطابق انہیں اس آگ کی اطلاع دوپہر کے دو بج کر چوبیس منٹ پر دی گئی۔ آگ بجھانے کے عملے میں فائر بریگیڈ کے علاوہ کراچی پورٹ ٹرسٹ، کینٹونمنٹ بورڈ کا عملہ حصہ لے رہا ہے اور اس میں لگ بھگ دو درجن گاڑیوں کے علاوہ چار سنارکلز کام کر رہی ہیں۔ حکام نے بتایا ہے کہ عمارت کی چوتھی منزل سے دسویں منزل تک تمام منزلیں مکمل جل گئی ہیں جبکہ تیسری اور گیارہویں منزل کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ پورٹ اینڈ شپنگ کے وفاقی وزیر بابر خان غوری نے بتایا کہ آگ لگنے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال فروری میں بھی اس عمارت میں آگ لگی تھی جس کے بعد اب تک اس عمارت کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے تھے کہ دوبارہ آگ لگ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آگ پر قابو پانے کے بعد واقعے کی تحقیقات کرائی جائیں گی۔ حکام کے مطابق آتشزدگی کے بعد عمارت میں کم سے کم دو درجن کے قریب لوگ پھنس گئے تھے جنہیں بحفاظت باہر نکال لیا گیا۔ اس سلسلے میں چیرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ احمد حیات نے بتایا کہ کچھ لوگوں کو عمارت کی چھت سے بحریہ کے ہیلی کاپٹرز کی مدد سے نکالا گیا جن میں ایک نجی موبائل فون کمپنی کا انجینئر بھی شامل ہے۔ آتشزدگی کے بعد پی این ایس سی کے ایک اہلکار کی موت کی خبر بھی ملی ہے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ مبینہ اہلکار کی موت کا آتشزدی سے تعلق نہیں ہے اور اس کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔ اتوار کے دن عام تعطیل ہونے کی وجہ سے عمارت میں واقع دفاتر بند تھے اور عمارت میں صرف سیکیورٹی اور موبائل فون ٹاور کا نگران عملہ موجود تھا۔ | اسی بارے میں انیس گھنٹے بعد آگ بجھا دی گئی19 February, 2007 | پاکستان شپنگ کارپوریشن کی عمارت میں آگ18 February, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||