کراچی: تجاوزات ہٹانے کا حکم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ نے کراچی میں سڑکوں کے اطراف سے تمام غیر قانونی تجاوزات مختصر مدت میں ہٹانے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے اس حوالے سے ٹریفک پولیس، کراچی پولیس اور شہری حکومت سے باہمی تعاون کے لیے بھی کہا ہے۔ کراچی میں سپریم کورٹ میں منگل کی صبح جسٹس بھگوان داس اور جسٹس نواز عباسی نے شہر میں جاری ٹریفک کے مسائل کی شکایت کی سماعت کی۔ سٹی ناظم مصطفیٰ کمال نے عدالت کو بتایا کہ شہر میں پچیس سے زائد مقامات ایسے ہیں جہاں پر ٹریفک جام ہوتا ہے جس میں سے پندرہ مقامات شہری حکومت کے ماتحت نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ٹریفک جام ہونے کی وجہ حالیہ بارش سے پڑنے والے گڑھے اور شہر میں جاری تعمیراتی کام ہیں، سٹی ناظم نے کہا کہ وہ شہر میں کی گئی کھدائی کی ذمے داری قبول کرتے ہیں یہ کھدائی شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کے لئے کی گئی ہے۔ مصطفیٰ کمال نے عدالت کو بتایا کہ ٹریفک پولیس ان کے ماتحت نہیں ہے اس لئے وہ ٹریفک کنٹرول نہیں کرسکتے، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شہر میں انسٹھ برسوں سے غیرقانونی تجاویزات نہیں ہٹائی گئی ہیں مگر انہوں نے اس کو چیلنج کے طور پر قبول کیا ہے۔ جسٹس نواز عباسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ’مجھے کراچی کے شھریوں کی حالت پر افسوس ہوتا ہے، سپریم کورٹ نے جب سے ازخود نوٹس لیا ہے سڑکوں پر پولیس نظر آنے لگی ہے اور ٹرکوں کو سائیڈ میں روک کر اپنا حساب کتاب کرتی ہے۔‘ جسٹس بھگوان داس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون پر عملدرآمد ہونا چاہیے عدالت جو حکم جاری کرتی ہے اس سے انکار نہیں کرنا چاہیے، ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں لوگوں کو بسوں میں نشت بہ نشت بٹھایا جائے اور ایسی ٹرانسپورٹ فراہم کی جائے جو لوگ اپنی ایئرکنڈیشن کار چھوڑ کر اس میں سفر کریں۔‘ سپریم کورٹ نے حکم جاری کیا کہ طویل المیعاد حل کے لئے ہر سنیچر کو چیف سیکریٹری کی صدارت میں تمام متعلقہ اداروں کا اجلاس منعقد کیا جائے اور اس کی رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے کو نمٹادیا۔ اس سے قبل گزشتہ سماعت کے موقع پر عدالت نے دن کے وقت شہر میں بھاری گاڑیوں کی آمد پر پابندی عائد کرنے کا حکم جاری کیا تھا اور ہدایت کی کہ انہیں رات کو گیارہ بجے شہر میں داخلے کی اجازت دی جائے۔ واضح رہے کہ کراچی میں گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور سڑکوں کی مرمت کی وجہ سے شاہراہ فیصل اور ایم اے جناح روڈ سمیت تمام مرکزی شاہراوں پر ٹریفک جام ہونا معمول بن گیا ہے، سپریم کورٹ کے جسٹس نواز عباسی نے ٹریفک جام ہونے کا ازخود نوٹس لیا تھا۔ | اسی بارے میں کراچی:بڑی گاڑیوں کا داخلہ بند17 August, 2007 | پاکستان حفاظتی انتظامات سے شہری پریشان30 January, 2007 | پاکستان کراچی:طرز تعمیر اور ماحول کی تباہی29 June, 2007 | پاکستان کراچی میں روٹی کی قیمت میں اضافہ06 August, 2007 | پاکستان بارشوں کا زور ختم، کاروبار زندگی بحال12 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||