BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 21 August, 2007, 07:41 GMT 12:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی: تجاوزات ہٹانے کا حکم

کراچی
گزشتہ سماعت کے موقع پر عدالت نے دن کے وقت شہر میں بھاری گاڑیوں کی آمد پر پابندی عائد کرنے کا حکم جاری کیا تھا
سپریم کورٹ نے کراچی میں سڑکوں کے اطراف سے تمام غیر قانونی تجاوزات مختصر مدت میں ہٹانے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے اس حوالے سے ٹریفک پولیس، کراچی پولیس اور شہری حکومت سے باہمی تعاون کے لیے بھی کہا ہے۔

کراچی میں سپریم کورٹ میں منگل کی صبح جسٹس بھگوان داس اور جسٹس نواز عباسی نے شہر میں جاری ٹریفک کے مسائل کی شکایت کی سماعت کی۔
عدالت میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ اور ڈی آئی جی ٹریفک اور سٹی ناظم مصطفیٰ کمال موجود تھے ۔

سٹی ناظم مصطفیٰ کمال نے عدالت کو بتایا کہ شہر میں پچیس سے زائد مقامات ایسے ہیں جہاں پر ٹریفک جام ہوتا ہے جس میں سے پندرہ مقامات شہری حکومت کے ماتحت نہیں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ٹریفک جام ہونے کی وجہ حالیہ بارش سے پڑنے والے گڑھے اور شہر میں جاری تعمیراتی کام ہیں، سٹی ناظم نے کہا کہ وہ شہر میں کی گئی کھدائی کی ذمے داری قبول کرتے ہیں یہ کھدائی شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کے لئے کی گئی ہے۔

مصطفیٰ کمال نے عدالت کو بتایا کہ ٹریفک پولیس ان کے ماتحت نہیں ہے اس لئے وہ ٹریفک کنٹرول نہیں کرسکتے، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شہر میں انسٹھ برسوں سے غیرقانونی تجاویزات نہیں ہٹائی گئی ہیں مگر انہوں نے اس کو چیلنج کے طور پر قبول کیا ہے۔

جسٹس نواز عباسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ’مجھے کراچی کے شھریوں کی حالت پر افسوس ہوتا ہے، سپریم کورٹ نے جب سے ازخود نوٹس لیا ہے سڑکوں پر پولیس نظر آنے لگی ہے اور ٹرکوں کو سائیڈ میں روک کر اپنا حساب کتاب کرتی ہے۔‘

جسٹس بھگوان داس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون پر عملدرآمد ہونا چاہیے عدالت جو حکم جاری کرتی ہے اس سے انکار نہیں کرنا چاہیے، ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں لوگوں کو بسوں میں نشت بہ نشت بٹھایا جائے اور ایسی ٹرانسپورٹ فراہم کی جائے جو لوگ اپنی ایئرکنڈیشن کار چھوڑ کر اس میں سفر کریں۔‘

سپریم کورٹ نے حکم جاری کیا کہ طویل المیعاد حل کے لئے ہر سنیچر کو چیف سیکریٹری کی صدارت میں تمام متعلقہ اداروں کا اجلاس منعقد کیا جائے اور اس کی رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے کو نمٹادیا۔

اس سے قبل گزشتہ سماعت کے موقع پر عدالت نے دن کے وقت شہر میں بھاری گاڑیوں کی آمد پر پابندی عائد کرنے کا حکم جاری کیا تھا اور ہدایت کی کہ انہیں رات کو گیارہ بجے شہر میں داخلے کی اجازت دی جائے۔

واضح رہے کہ کراچی میں گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور سڑکوں کی مرمت کی وجہ سے شاہراہ فیصل اور ایم اے جناح روڈ سمیت تمام مرکزی شاہراوں پر ٹریفک جام ہونا معمول بن گیا ہے، سپریم کورٹ کے جسٹس نواز عباسی نے ٹریفک جام ہونے کا ازخود نوٹس لیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد