باجوڑ میں امن کے لیے علماء کا جرگہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حکومت نے امن وامان کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے باجوڑ کے تمام قبیلوں کے علماء کا ایک جرگہ طلب کیا ہے۔ اس جرگے کو بلانے کی تجویز باجوڑ کے صدر مقام خار میں منگل کی صبح باجوڑ میں منعقد ہونے والے امن گرینڈ جرگے کے اجلاس میں پیش کی گئی۔ جرگے میں پولیٹکل ایجنٹ اور دیگر اعلی اہلکاروں کے علاوہ جرگہ اراکین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے ماموند امن کمیٹی کے سربراہ ملک عبد العزیز نے مقامی طالبان سے ہونے والے بات چیت سے آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی مجاہدین نے جرگہ کو مکمل یقین دہانی کرائی کہ وہ امن معاہدے پر بدستور سختی سے قائم ہیں اور اس کی پاسداری کر رہے ہیں جب کہ باجوڑ میں سرکاری اہلکاروں اور چوکیوں پر جاری حملوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ملک عبدالعزیز نے بتایا کہ طالبان نے اس بات پر افسوس کا اظہار بھی کیا کہ ان کی جانب سے بار بار تردید کے باوجود حکومت ان کی بات پر یقین نہیں کررہی، جس کے نتیجے میں دونوں طرف بے اعتمادی پیدا ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان نے اس بات کی بھی یقین دہانی کرائی کہ اگر ان کا کوئی جنگجو کسی کارروائی میں ملوث پایا گیا تو ثبوت پیش کرنے پر سخت کارروائی کی جائے گی۔
جرگہ میں قبائلی عمائدین نے تجویز پیش کی کہ علاقے میں قیام امن کےلیے علماء کو بھی اعتماد میں لیا جائے اور ان سے مشاورت کرنی چاہیے جس کے بعد مقامی انتظامیہ نے باجوڑ کے تمام قبائل کے علماء کرام کا جرگہ چار اگست کو طلب کیا ہے جب کہ گرینڈ جرگہ کا ائندہ اجلاس چھ اگست کو ہوگا۔ واضح رہے کہ مقامی طالبان اور قبائلی جرگہ کے مابین کئی ہفتوں سے جاری مذاکرات میں تاحال کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔ دوسری طرف باجوڑ میں رات کے وقت ملیشاء فورسز کی چوکیوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ |
اسی بارے میں کابل جرگہ میں شرکت سے انکار04 August, 2007 | پاکستان ’طالبان کی حملوں سے لاتعلقی‘03 August, 2007 | پاکستان طالبان سےبات چیت کے لیےقبائلی جرگہ02 August, 2007 | پاکستان پہلے چوکیوں کا خاتمہ پھربات چیت24 July, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||