شاہد عثمان آبائی گاؤں میں دفن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لال مسجد آپریشن میں ہلاکت کے بعد حکومت کی جانب سے غیر ملکی قرار دیے جانے والے شاہد عثمان کو منگل کی صبح اٹک کے مضافاتی گاؤں شکردرہ میں سپردخاک کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ رات ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ آنے کے بعد شاہد عثمان کی میت اُن کی والدہ کے حوالے کی گئی تھی اس موقع پر موجود شاہد عثمان کے بہنوئی عطا اللہ شاہ کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے خود ہی قبر کھود کر میت نکالی جو ایک لکڑی کے بکس میں بند تھی اور بغیر کھولے ہی اُسے دفنا دیا گیا ہے۔ شاہد عثمان کے والد سید عثمان شاہ کا کہنا تھا کہ اُن کے بیٹے کی میت اٹک آنے سے اُن کے دل کو بہت تسلی ہے اور اب وہ کم از کم اپنے بیٹے کی قبر کو دیکھ سکتے ہیں اور وہاں جا کر دعا کر سکتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں سید عثمان شاہ کا کہنا تھا کہ اُن کی اہلیہ کی شدید خواہش تھی کہ شاہد عثمان کو اٹک میں دفنایا جائے اور ڈی این اے رپورٹ کے بعد اب وہ بیٹے کی اٹک میں تدفین کے بعد کافی مطمئن ہیں۔ سید عثمان شاہ کا مزید کہنا تھا کہ ایک بیٹے کی میت تو مل گئی ہے اب اُن کی حکومت سے درخواست ہے کہ اڈیالہ جیل میں قید اُن کے دوسرے بیٹے صفی اللہ کو بھی رہا کیا جائے۔
شاہد عثمان کی نماز جنازہ جامعہ اسلامیہ راولپنڈی کے مہتمم اور سابق وزیر قاری سعید الرحمن نے پڑھائی۔ نمازِ جنازہ میں شریک سینکڑوں لوگوں نے اس موقع پر حکومت مخالف شدید نعرہ بازی بھی کی۔ ادھر اسلام آباد کے جناح سیڈیم میں لال مسجد آپریشن کے گمشدہ افراد کے لیے بنائے جانے والے افراد کے کیمپ کے انچارچ اسٹنٹ کمشنر کیپٹن (ر) شہباز ندیم کا کہنا تھا کہ اُن کے پاس گمشدہ افراد کے ساٹھ ورثاء نے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے اپنے خون کے نمونے دیے تھے، جن میں سے سولہ کی رپورٹ آ گئی ہے اوراب ورثاء سے رابطہ کیا جا رہا ہے کہ میتیں وصول کر لیں۔ شہباز ندیم کا کہنا تھا کہ ڈی این ٹیسٹ رپورٹ آنے سے پہلے ہی دو گمشدہ لوگوں مجیب الرحمن اور منیبہ منذر کا پتہ چل گیا تھا، مجیب الرحمن کی ایک تصویر کی مدد سے لاش شناخت کر لی گئی تھی اور منیبہ منذر اپنے گھر پہنچ گئی تھیں۔ اس لیے اب مزید بیالیس ڈی این اے ٹیسٹوں کی رپورٹیں آنا باقی ہیں جو دو اگست تک آ جائیں گی۔ اسٹنٹ کمشنر شہباز ندیم کا کہنا تھا کہ ڈی این اے ٹیسٹ کے بہتر نتائج کے لیے ضروری ہے کہ گمشدہ افراد کے والدین ہی اپنے خون کے نمونے دیں اور اُن کے پاس آنے والے درخواست گزاروں میں سے تئیس گمشدہ افراد کے والدین نے اپنے خون کے نمونے دیے تھے جب کے باقی لوگوں میں سے بعض افراد کے صرف والد یا والدہ یا پھر بہن بھائیوں نے اپنے خون کے نمونے دیے تھے۔ دریں اثناء مولانا عبدالعزیز کے پھوپھی زاد بھائی ایوب مزاری جو آج اپنے بھائی مولانا انعام اللہ کی میت لینے اسلام آباد کے ایچ الیون قبرستان گئے تھے کا کہنا تھا کہ اُن کو حوالے جو تابوت کیا گیا اُس میں تین گٹھٹریاں تھیں اور کسی طرح یہ ثابت نہیں ہو رہا تھا یہ مولانا انعام اللہ کی میت ہے اس لیے ہم نے وہ میت لینے سے انکار کر دیا۔ ایوب مزاری کا کہنا تھا کہ آپریشن کے دوران لال مسجد میں موجود کچھ طالبعلموں نے اُنہیں بتایا ہے کہ اُنہوں نے مولانا انعام اللہ کو ایک بکتر بند گاڑی میں بیٹھے دیکھا ہے اس لیے اُنہیں یقین ہے کہ اُن کا بھائی زندہ ہے، ’پھر ہم کیوں کسی اور کی ہڈیاں لے کر جائیں‘۔ | اسی بارے میں لال مسجد میں غیر ملکی تھے: چیمہ17 July, 2007 | پاکستان ’چار دن ہوگئے مگر لاش نہیں دے رہے‘17 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: رنگ بدلا، ڈھنگ وہی 27 July, 2007 | پاکستان ’بیٹے کی تدفین جامعہ میں نہ ہوئی‘ 20 July, 2007 | پاکستان سات مرلے جائز، اٹھارہ کنال ناجائز24 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||