’چار دن ہوگئے مگر لاش نہیں دے رہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لال مسجد آپریشن میں ہلاکت کے بعد حکومت کی جانب سے غیر ملکی قرار دیے جانے والے شاہد عثمان کی والدہ کا کہنا ہے کہ انہیں تاحال ان کے بیٹے کی لاش نہیں دی گئی اور نہ ہی ان کی لال مسجد آپریشن میں زخمی ہونے والے ان کے دوسرے بیٹے سے تفصیلی ملاقات کروائی گئی ہے۔ اٹک کے مضافاتی گاؤں شکردرہ سے تعلق رکھنے والی حنفیہ بی بی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ وہ تین چار دن سے لاش کی تلاش میں اسلام میں واقع جناح سٹیڈیم کے مسلسل چکر لگا رہی ہیں لیکن اُنہیں اپنے بیٹے کی میت کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چل رہا۔ ادھر وزارتِ داخلہ کے ترجمان بریگیڈئر جاوید اقبال چیمہ کا کہنا ہے کہ لال مسجد آپریشن میں ہلاک ہونے والے افراد میں سے دس کو ان کے خدوخال کی بناء پر غیر ملکی قرار دیا گیا تھا۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے تسلیم کیا کہ حکومت کے پاس ان افراد کے بارے میں کوئی حتمی معلومات نہیں تھیں۔ بریگیڈئر چیمہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ جن افراد کی تصاویر شائع کی گئی ہیں، اگر وہ پاکستانی ہیں تو ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد ان کی لاشیں ورثاء کے حوالے کر دی جائیں گی۔ شاہد عثمان کی والدہ حنفیہ بی بی کا کہنا تھا کہ انہیں اسلام آباد کے ایک تھانے میں تصاویر اور فلم دکھائی گئی لیکن اُن کے بیٹے کی اُس میں کوئی تصویر نہیں تھی۔ حنیفہ بی بی نے بتایا کہ اُنہوں نے اور اُن کے شوہر نے مزید جانچ پڑتال کے لیے خون کے ٹیسٹ دیے ہیں جن کے بارے میں حُکام کا کہنا ہے تئیس جولائی کو رزلٹ آئے گا۔
حنفیہ بی بی کے ساتھ آنے والی اُن کی بیٹی عارفہ بی بی کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اپنے بھائی کی شہادت پر فخر ہے کیونکہ یہ ایک اچھی موت ہے، دکھ اس بات کا ہے کہ اُسے غیر ملکی کہا جا رہا ہے‘۔ حنفیہ بی بی کا کہنا تھا کہ اُنہیں دو بار اپنے زخمی بیٹے صفی اللہ شاہ سے اسلام آباد کے ہسپتال میں ملنے دیا گیا اور جب وہ پہلی دفعہ صفی اللہ سے ملیں تو اُس کے ایک پاؤں میں بیڑی تھی لیکن گزشتہ روز کی ملاقات میں تو ان کے بیٹے کے پاؤں میں بیڑی نہیں تھی۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ اُنہیں بس چند منٹ کے لیے ہی اپنے بیٹے سے ملنے دیا گیا ہے۔ حنفیہ بی بی کے علاوہ کئی اور والدین اب بھی حکومت کی جانب سے معلومات کے حصول کے لیے جناح سٹیڈیم میں لگائے جانے والے کیمپ میں روزانہ آ رہے ہیں۔کیمپ کے انچارج چوہدری اصغر علی کا کہنا ہے کہ اب تک سنتالیس لوگوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے خون کے نمونے لیے گئے ہیں اور اس ٹیسٹ میں دو ہفتے لگتے ہیں۔
چوہدری اصغر علی کا کہنا تھا کہ وہ تو صرف اُنہیں لوگوں کے بارے میں بتا سکتے ہیں جو یا تو جیل میں بند ہیں اور یا ہسپتالوں میں ہیں۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ اب صرف ایک سو اسی کے قریب لوگ اڈیالہ جیل میں ہیں باقی سب کو رہا کر دیا گیا ہے۔ حکومتی اعدادو شمار کے مطابق اب تک پانچ سو لوگوں کو رہا کیا گیا ہے جن میں سے اٹھائیس خواتین شامل ہیں۔ حکومت کی جانب سے اب تک غیر ملکی قرار دیے جانے والے چار طلباء کے بارے میں اُن کے والدین یہ دعوی کر چُکے ہیں کہ اخبارات میں غیر ملکی ہونے کے حوالے سے چھپنے والی تصاویر اُن کے بچوں کی ہیں۔ ان میں سے شاہد عثمان اور محمد اکثر کا تعلق اٹک جبکہ محمد عمر نامی طالبلعم کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اُن کا تعلق کہوٹہ سے ہے۔ اخبارات میں چھپنے والی ایک اور تصویر کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ وزیرستان سے تعلق رکھنے والے زین اللہ کی ہے۔ |
اسی بارے میں عبدالرشید غازی کو دفنا دیاگیا12 July, 2007 | پاکستان ’خوشی کا نہیں سوچنے کا دن‘12 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: سوالوں کے جواب ندارد12 July, 2007 | پاکستان ہلاکتوں کی تعداد پرشکوک12 July, 2007 | پاکستان ’درخت کے پتوں اور بارش کے پانی پر زندہ تھے‘ 12 July, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||