تُربت کی درگت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جیسے ہی طیارے نے کراچی سے تربت کے لئے جنوب کی اڑان بھری میں نے آنکھیں موند کر طیارے کی مخالف سمت ماضی کے آسمان میں شمال کی جانب سفر شروع کردیا۔ایک ایک کرکے تباہی کے وہ سارے منظر گزرنے لگے جو ان آنکھوں نے آٹھ اکتوبر دو ہزار پانچ کے زلزلے کے بعد تین چار ماہ میں الائی سے مانسہرہ تک اور مظفر آباد سے چکوٹھی تک دیکھے تھے۔ صدر، وزرا، مشیران، فوجی افسران اور ریلیف کے اداروں کی وہ ساری یقین دہانیاں، قسمیں، وعدے جو زلزلے کے متاثرین سے کئے گئے تھے میرے سر کا طواف کرنے لگے۔ ’حکومت سب کا نقصان پورا کرے گی۔اس مصیبت میں لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ہمیں اپنی کوتاہیوں کا احساس ہے کہ ہم قدرتی آفات سے نمٹنے اور ریلیف اور ریسکیو کا مربوط نظام قائم نہیں کرسکے۔ہمیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ اتنی بڑی تباہی بھی آسکتی ہے۔اب ایک نیشنل والنٹئیر فورس قائم کی جائے گی۔جس کا کام ہی آفات سے متاثرہ لوگوں کی مدد کرنا ہوگا۔اس فورس کے رضاکاروں کو ریلیف اور ریسکیو کے غیرملکی ماہرین سے تربیت دلائی جائےگی۔پیشگی وارننگ کا جدید ترین نظام قائم ہوگا۔لازمی سروسز کے مابین ہنگامی حالات میں رابطہ کاری کو یقینی بنانے کے انتظامات کئے جائیں گے۔ہم آفات کو روک تو نہیں سکتے لیکن انکے نتیجے میں پیدا ہونے والے مصائب کو تو کم کرہی سکتے ہیں۔‘
متاثرین کو محض چند ہزار خیمے، دو ماہ کی خوراک اور مکانات کی تعمیر، فصلوں اور پالتو جانوروں کے نقصان کے ازالے کے لئے کچھ مالی مدد درکار ہوگی۔ اور یہ مدد بھی زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کی طرح اربوں ڈالر میں نہیں بلکہ چند کروڑ روپے کی شکل میں درکار ہوگی جوایک ایسی حکومت کے لئے کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہئیے جس کے پاس بارہ ارب ڈالر سے زائد کا زرِ مبادلہ ہے اور زلزلے کی تباہ کاریوں کے باوجود پیداوار میں سالانہ اضافے کی شرح سات فیصد سے زائد ہے۔ لیکن تربت ایرپورٹ سے باہر آنے کے چھ گھنٹوں کے اندر ہی مجھے جمالِ احسانی کا یہ شعر سمجھ میں آگیا کہ آگاہ میں چراغ جلاتے ہی ہوگیا
صدرِ مملکت اور وزیرِ اعظم نے جس طرح زلزلہ زدہ علاقوں کا یہاں سے وھاں تک کئی کئی مرتبہ دورہ کرکے خزانے کے منہ کھول دینے جیسی باتیں کرکے عوام کا دل موہ لیا تھا۔اسی طرح تربت کے لوگوں کو بھی یہ نوید سنائی گئی کہ ہر متاثرہ خاندان کو فوری طور پر پندرہ ہزار روپے کی ہنگامی امداد اور اسکے بعد نقصانات کے ازالے کے سروے کے نتیجے میں مزید امداد دی جائے گی۔ تربت کے ناظم عبدالرؤف رند سمیت پوری ضلعی انتظامیہ کا ہیڈ کوارٹر فرنٹیئرکانسٹیبلری کے کیمپ میں شفٹ ہوچکا ہے۔لیکن انکے لئے کوئی علیحدہ سے کمرہ مختص نہیں کیا گیا۔ناظم صاحب جس کمرے میں جس فوجی کی کرسی خالی ملتی ہے۔تھوڑی دیر کے لئے اس پر بیٹھ کر آرام کرلیتے ہیں۔ہم دونوں کو کیمپ میں ایک بھی کمرہ ایسا نہیں مل سکا جہاں بیٹھ کر دو گھڑی بات ہوسکتی۔مجبوراً ڈی سی او کے دفتر میں جا کر گفتگو ہوئی۔ ناظم صاحب نے بتایا کہ صرف صدرِ مملکت کی جانب سے پندرہ ہزار روپے فی خاندان کی امداد متاثرین میں بانٹنے کے لئے ضلعی ایڈمنسٹریشن کو پندرہ کروڑ روپے درکار ہیں۔لیکن تین ہفتے کے دوران ضلعی انتظامیہ کو وفاقی اور صوبائی حکومت اور بیت المال کی جانب سے محض ساڑھے اکتیس لاکھ روپے کی رقم ہی مل پائی ہے۔ابھی زراعت، مواصلاتی ڈھانچے اور املاک کے نقصانات کا سروے ہونا باقی ہے۔
این جی اوز اور حکومت نے مل ملا کر اب تک ایک ہزار کے قریب خیمے تقسیم کئے ہیں اور چند میدانوں میں خیمے لگا کر انہیں خیمہ بستوں کا نام دے دیا گیا ہے۔لیکن ان بستیوں میں مصیبت کے تین ہفتے بعد بھی ٹوائلٹ ، بجلی اور پینے کے صاف پانی جیسی سہولتیں آنا باقی ہیں۔اچھی بات یہ ہے کہ شدید بارشوں کے باوجود وبائی امراض نہیں پنپ سکے۔ریڈ کراس سمیت دو تین غیر ملکی این جی اوز نے صحت کے شعبے کو خوش اسلوبی سے سنبھا ل رکھا ہے۔ جہاں تک این جی اوز اور حکومت میں رابطے کا معاملہ ہے۔تو ضلعی حکومت اور این جی اوز میں تعلقات اس لئے اچھے ہیں کیونکہ ضلعی انتظامیہ فرنٹئر کانسٹیبلری اور فوج کے ہوتے ہوئے بے اختیار ہے۔اور نیم فوجی تنظیم فرنٹئر کانسٹیبلری کے این جی اوز سے تعلقات میں کم و بیش اتنا ہی کھچاؤ ہے جتنا زلزلے کے بعد کے ابتدائی زمانے میں فوج اور این جی اوز کے درمیان میں تھا۔ تربت میں موجود سکیورٹی حکام کی خواہش ہے کہ این جی اوز اگر چھینک بھی ماریں تو اسکی اطلاع ایف سی کے کیمپ میں ضرور دیں۔ اپنی نقل و حرکت کے لئے اجازت نامہ لیں اور اپنی کارکردگی اور امداد کی نوعیت سے بھی ایف سی کو روزانہ کی بنیاد پر آگاہ رکھیں۔جبکہ اس بات کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی کہ ایف سی بھی اپنی کارکردگی سے این جی اوز کو روزانہ آگاہ کرتی رہے۔ یہاں تک تو ٹھیک ہے۔اور این جی اوز نے یہ سب باتیں مان بھی لی ہیں۔لیکن ایف سی کی یہ فرمائش این جی اوز کے حلق سے نہیں اتر پارہی کہ امن و امان کے حالات کے پیشِ نظر جو بھی امدادی ٹیم چاہے وہ مقامی رضاکاروں پر ہی کیوں نہ مشتمل ہوروزانہ صبح صبح سب سے پہلے ایف سی کیمپ سے مسلح محافظ لے کر فیلڈ میں جائے۔این جی اوز کی دلیل یہ ہے کہ ایک تو اس لازمی فرمائش کو پورا کرنے میں انکا جتنا وقت ضائع ہوتا ہے اتنا ہی وقت ریلیف کی سرگرمیوں کے لئے کم ہوجاتا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ متاثرین اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ این جی اوز کے ہمراہ باوردی مسلح محافظ ہوں۔اور تیسری بات یہ ہے کہ بلوچستان میں سیاسی بے چینی کی جو نوعیت ہے اس میں این جی اوز کو خدشہ ہے کہ اگر کسی نے انکے ساتھ نتھی مسلح محافظوں کو ہدف بنانے کی کوشش کی تو این جی اوز کو علاقہ بدر کیا جاسکتا ہے۔جبکہ مسلح محافظوں کے بغیر امدادی تنظیمیں زیادہ اعتماد کے ساتھ متاثرین کی مدد کرسکتی ہیں۔ ایک این جی او ورکر کے بقول فوجیوں کو ہماری حفاظت سے زیادہ اس بات کی فکر ہے کہ لوگوں کو یہ بات یاد رہے کہ ریلیف کا جو بھی کام ہورھا ہے اس میں فوجی نہ صرف شامل ہیں بلکہ نظر بھی آ رہے ہیں۔چاہے یہ شمولیت بندوق کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو۔جبکہ ہمیں اب یہ فکر ہے کہ بغیر محافظوں کے ہماری جانب کسی کی توجہ مبذول ہونا ہو اب ضرور مبذول ہوگی۔ میں سوچ رھا ہوں کہ حکومت اور فوج نے اگر زلزلے میں ریلیف اور ریسکیو کے تجربے سے کچھ سیکھا بھی تھا تو اسے بارش و سیلاب کے متاثرین کی امداد کے عمل پر کیوں لاگو نہیں کیا جارہا۔ تو کیا سیکھے گئے تجربات بھی خفیہ رازوں کی فائل میں دبا دیئے گئے ہیں؟ | اسی بارے میں بلوچستان: امدادی کارروائیاں، بیماریاں05 July, 2007 | پاکستان سیلاب کے متاثرین، امداد کے منتظر07 July, 2007 | پاکستان بلوچستان میں ڈیڑھ لاکھ افراد بےگھر07 July, 2007 | پاکستان تربت: وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ21 July, 2007 | پاکستان جھل مگسی اور نصیرآباد میں ہیضہ22 July, 2007 | پاکستان بلوچستان: بحالی کے کاموں کا آغاز 17 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||