BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 23 July, 2007, 15:37 GMT 20:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تُربت کی درگت

سیلاب سے متاثرہ افراد
تین ہفتے بعد بھی ٹوائلٹ ، بجلی اور پینے کے صاف پانی جیسی سہولتیں آنا باقی ہیں
جیسے ہی طیارے نے کراچی سے تربت کے لئے جنوب کی اڑان بھری میں نے آنکھیں موند کر طیارے کی مخالف سمت ماضی کے آسمان میں شمال کی جانب سفر شروع کردیا۔ایک ایک کرکے تباہی کے وہ سارے منظر گزرنے لگے جو ان آنکھوں نے آٹھ اکتوبر دو ہزار پانچ کے زلزلے کے بعد تین چار ماہ میں الائی سے مانسہرہ تک اور مظفر آباد سے چکوٹھی تک دیکھے تھے۔

صدر، وزرا، مشیران، فوجی افسران اور ریلیف کے اداروں کی وہ ساری یقین دہانیاں، قسمیں، وعدے جو زلزلے کے متاثرین سے کئے گئے تھے میرے سر کا طواف کرنے لگے۔


’حکومت سب کا نقصان پورا کرے گی۔اس مصیبت میں لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ہمیں اپنی کوتاہیوں کا احساس ہے کہ ہم قدرتی آفات سے نمٹنے اور ریلیف اور ریسکیو کا مربوط نظام قائم نہیں کرسکے۔ہمیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ اتنی بڑی تباہی بھی آسکتی ہے۔اب ایک نیشنل والنٹئیر فورس قائم کی جائے گی۔جس کا کام ہی آفات سے متاثرہ لوگوں کی مدد کرنا ہوگا۔اس فورس کے رضاکاروں کو ریلیف اور ریسکیو کے غیرملکی ماہرین سے تربیت دلائی جائےگی۔پیشگی وارننگ کا جدید ترین نظام قائم ہوگا۔لازمی سروسز کے مابین ہنگامی حالات میں رابطہ کاری کو یقینی بنانے کے انتظامات کئے جائیں گے۔ہم آفات کو روک تو نہیں سکتے لیکن انکے نتیجے میں پیدا ہونے والے مصائب کو تو کم کرہی سکتے ہیں۔‘

مشرف
صدر مشرف نے خزانے کے منہ کھول دینے جیسی باتیں کرکے عوام کا دل موہ لیا تھا
میں تربت جا کر یہ بھی دیکھنا چاہتا تھا کہ زلزلے کے بعد بارش و سیلاب کی شکل میں آنے والی پہلی بڑی قدرتی آزمائش سے سرکاری مشینری زلزلے کے دوران بحالی کے کام سے حاصل شدہ تجربات کی روشنی میں کتنی خوش اسلوبی سے نمٹ رہی ہوگی۔اور ویسے بھی زلزلے سے متاثرہ چالیس لاکھ آبادی کے مقابلے میں تربت کی آبادی تو صرف چار لاکھ ہے۔جبکہ باقی اضلاع کو بھی اگر ملا لیا جائے تو متاثرہ آبادی بیس لاکھ سے زیادہ نہیں بنتی۔جانی نقصان بھی ہزاروں لاکھوں میں نہیں سینکڑوں میں ہے۔طبی امداد کی بھی صرف بیماریوں کی روک تھام کی حد تک ضرورت ہے۔زلزلے کی طرح موبائیل آپریشن تھیٹرز اور سینکڑوں طبی ٹیموں تھوڑی چاہئیں!

متاثرین کو محض چند ہزار خیمے، دو ماہ کی خوراک اور مکانات کی تعمیر، فصلوں اور پالتو جانوروں کے نقصان کے ازالے کے لئے کچھ مالی مدد درکار ہوگی۔ اور یہ مدد بھی زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کی طرح اربوں ڈالر میں نہیں بلکہ چند کروڑ روپے کی شکل میں درکار ہوگی جوایک ایسی حکومت کے لئے کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہئیے جس کے پاس بارہ ارب ڈالر سے زائد کا زرِ مبادلہ ہے اور زلزلے کی تباہ کاریوں کے باوجود پیداوار میں سالانہ اضافے کی شرح سات فیصد سے زائد ہے۔

لیکن تربت ایرپورٹ سے باہر آنے کے چھ گھنٹوں کے اندر ہی مجھے جمالِ احسانی کا یہ شعر سمجھ میں آگیا کہ

آگاہ میں چراغ جلاتے ہی ہوگیا
دنیا میرے حساب سے بڑھ کر خراب ہے

سیلاب کے متاثرین
کسی متاثر کو تین خیمے مل گئے تو بیسیوں کو ایک بھی نہیں ملا
جس طرح زلزلے کے دوران ہوا تھا کہ کسی متاثر کو تین خیمے مل گئے تو بیسیوں کو ایک بھی نہیں ملا۔اسی طرح تربت میں بھی ایک متاثرہ شخص نے بتایا کہ اسکی فیملی دو خیمے حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔جبکہ سینکڑوں ایسے ملے جن کا نام سروے کے ریکارڈ میں تو مل جائے گا۔یا وہ آپ کو ریلیف کے لئے فرنٹیئر کانسٹیبلری کی جاری شدہ پرچی تو دکھا دیں گےلیکن ان کے پاس اور کچھ نہ ہوگا۔

صدرِ مملکت اور وزیرِ اعظم نے جس طرح زلزلہ زدہ علاقوں کا یہاں سے وھاں تک کئی کئی مرتبہ دورہ کرکے خزانے کے منہ کھول دینے جیسی باتیں کرکے عوام کا دل موہ لیا تھا۔اسی طرح تربت کے لوگوں کو بھی یہ نوید سنائی گئی کہ ہر متاثرہ خاندان کو فوری طور پر پندرہ ہزار روپے کی ہنگامی امداد اور اسکے بعد نقصانات کے ازالے کے سروے کے نتیجے میں مزید امداد دی جائے گی۔

تربت کے ناظم عبدالرؤف رند سمیت پوری ضلعی انتظامیہ کا ہیڈ کوارٹر فرنٹیئرکانسٹیبلری کے کیمپ میں شفٹ ہوچکا ہے۔لیکن انکے لئے کوئی علیحدہ سے کمرہ مختص نہیں کیا گیا۔ناظم صاحب جس کمرے میں جس فوجی کی کرسی خالی ملتی ہے۔تھوڑی دیر کے لئے اس پر بیٹھ کر آرام کرلیتے ہیں۔ہم دونوں کو کیمپ میں ایک بھی کمرہ ایسا نہیں مل سکا جہاں بیٹھ کر دو گھڑی بات ہوسکتی۔مجبوراً ڈی سی او کے دفتر میں جا کر گفتگو ہوئی۔

ناظم صاحب نے بتایا کہ صرف صدرِ مملکت کی جانب سے پندرہ ہزار روپے فی خاندان کی امداد متاثرین میں بانٹنے کے لئے ضلعی ایڈمنسٹریشن کو پندرہ کروڑ روپے درکار ہیں۔لیکن تین ہفتے کے دوران ضلعی انتظامیہ کو وفاقی اور صوبائی حکومت اور بیت المال کی جانب سے محض ساڑھے اکتیس لاکھ روپے کی رقم ہی مل پائی ہے۔ابھی زراعت، مواصلاتی ڈھانچے اور املاک کے نقصانات کا سروے ہونا باقی ہے۔

تربت
تین ہفتے بعد بھی ٹوائلٹ ، بجلی اور پینے کے صاف پانی جیسی سہولتیں آنا باقی ہیں
جس طرح زلزلہ زدہ علاقوں میں زیادہ تر نقصان زمین ہلنے سے نہیں بلکہ ناقص تعمیرات کے سبب ہوا تھا اسی طرح مکران کے علاقے میں علاقہ نمائندگان نے عوامی فلاح و بہبود کے نام پر بھائی بھتیجوں کو ٹھیکے دلوا کر جو درجنوں چھوٹے چھوٹے بند سال ڈیڑھ سال پہلے بنوائے تھے ان میں سے بییشتر نہ صرف بہہ گئے بلکہ اپنے بہاؤ میں ووٹروں کے مکانات اور مویشی بھی لے گئے۔زلزلہ زدہ علاقوں میں بھی ناقص تعمیرات کے زمہ داروں کو بلیک لسٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔تربت کے ناظم نے بھی ہوبہو ایسی ہی بات کہی۔

این جی اوز اور حکومت نے مل ملا کر اب تک ایک ہزار کے قریب خیمے تقسیم کئے ہیں اور چند میدانوں میں خیمے لگا کر انہیں خیمہ بستوں کا نام دے دیا گیا ہے۔لیکن ان بستیوں میں مصیبت کے تین ہفتے بعد بھی ٹوائلٹ ، بجلی اور پینے کے صاف پانی جیسی سہولتیں آنا باقی ہیں۔اچھی بات یہ ہے کہ شدید بارشوں کے باوجود وبائی امراض نہیں پنپ سکے۔ریڈ کراس سمیت دو تین غیر ملکی این جی اوز نے صحت کے شعبے کو خوش اسلوبی سے سنبھا ل رکھا ہے۔

جہاں تک این جی اوز اور حکومت میں رابطے کا معاملہ ہے۔تو ضلعی حکومت اور این جی اوز میں تعلقات اس لئے اچھے ہیں کیونکہ ضلعی انتظامیہ فرنٹئر کانسٹیبلری اور فوج کے ہوتے ہوئے بے اختیار ہے۔اور نیم فوجی تنظیم فرنٹئر کانسٹیبلری کے این جی اوز سے تعلقات میں کم و بیش اتنا ہی کھچاؤ ہے جتنا زلزلے کے بعد کے ابتدائی زمانے میں فوج اور این جی اوز کے درمیان میں تھا۔

تربت میں موجود سکیورٹی حکام کی خواہش ہے کہ این جی اوز اگر چھینک بھی ماریں تو اسکی اطلاع ایف سی کے کیمپ میں ضرور دیں۔ اپنی نقل و حرکت کے لئے اجازت نامہ لیں اور اپنی کارکردگی اور امداد کی نوعیت سے بھی ایف سی کو روزانہ کی بنیاد پر آگاہ رکھیں۔جبکہ اس بات کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی کہ ایف سی بھی اپنی کارکردگی سے این جی اوز کو روزانہ آگاہ کرتی رہے۔

یہاں تک تو ٹھیک ہے۔اور این جی اوز نے یہ سب باتیں مان بھی لی ہیں۔لیکن ایف سی کی یہ فرمائش این جی اوز کے حلق سے نہیں اتر پارہی کہ امن و امان کے حالات کے پیشِ نظر جو بھی امدادی ٹیم چاہے وہ مقامی رضاکاروں پر ہی کیوں نہ مشتمل ہوروزانہ صبح صبح سب سے پہلے ایف سی کیمپ سے مسلح محافظ لے کر فیلڈ میں جائے۔این جی اوز کی دلیل یہ ہے کہ ایک تو اس لازمی فرمائش کو پورا کرنے میں انکا جتنا وقت ضائع ہوتا ہے اتنا ہی وقت ریلیف کی سرگرمیوں کے لئے کم ہوجاتا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ متاثرین اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ این جی اوز کے ہمراہ باوردی مسلح محافظ ہوں۔اور تیسری بات یہ ہے کہ بلوچستان میں سیاسی بے چینی کی جو نوعیت ہے اس میں این جی اوز کو خدشہ ہے کہ اگر کسی نے انکے ساتھ نتھی مسلح محافظوں کو ہدف بنانے کی کوشش کی تو این جی اوز کو علاقہ بدر کیا جاسکتا ہے۔جبکہ مسلح محافظوں کے بغیر امدادی تنظیمیں زیادہ اعتماد کے ساتھ متاثرین کی مدد کرسکتی ہیں۔

ایک این جی او ورکر کے بقول فوجیوں کو ہماری حفاظت سے زیادہ اس بات کی فکر ہے کہ لوگوں کو یہ بات یاد رہے کہ ریلیف کا جو بھی کام ہورھا ہے اس میں فوجی نہ صرف شامل ہیں بلکہ نظر بھی آ رہے ہیں۔چاہے یہ شمولیت بندوق کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو۔جبکہ ہمیں اب یہ فکر ہے کہ بغیر محافظوں کے ہماری جانب کسی کی توجہ مبذول ہونا ہو اب ضرور مبذول ہوگی۔

میں سوچ رھا ہوں کہ حکومت اور فوج نے اگر زلزلے میں ریلیف اور ریسکیو کے تجربے سے کچھ سیکھا بھی تھا تو اسے بارش و سیلاب کے متاثرین کی امداد کے عمل پر کیوں لاگو نہیں کیا جارہا۔ تو کیا سیکھے گئے تجربات بھی خفیہ رازوں کی فائل میں دبا دیئے گئے ہیں؟

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد