BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میرانشاہ: بڑی کارروائی کا نوٹس

میران شاہ فائل فوٹو
شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کا نشانہ بننے والا ایک گھر
پاکستانی فوج نے دعوی کیا ہے کہ شمالی وزیرستان میں مبینہ شدت پسندوں کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں میں دو فوجیوں کے علاوہ پینتیس مبینہ شدت پسند ہلاک جبکہ پندرہ زخمی ہوگئے ہیں۔

پیر ہی کو حکومت کی جانب سے ایک نوٹس جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ’ آپ لوگوں کو خبر دار کیا جاتا ہے کہ تیئس جولائی کی شام چار بجے کے بعد حکومت کی طرف سے عملی قدم اٹھایا جائے گا لہذا آپ لوگ بےگناہ خواتین اور بچوں کو گھروں سے نکال دیں۔،

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے بی بی سی کوبتایا کہ اتوار کی رات دو بجے سے شمالی وزیرستان کے رزمک ،سیدگئی اور میر علی کے مختلف مقامات پر سکیورٹی فورسز پر حملے کیے گئے ہیں۔

انہوں نے دعوی کیا کہ پیر کی شام کو میرعلی کے قریب قائم دو چیک پوسٹوں پر مبینہ شدت پسندوں نے بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا ہے جبکہ سکیورٹی فورسز کے جوابی حملے میں پینتیس مبینہ شدت پسند ہلاک اور پندرہ زخمی ہوگئے ہیں۔

ان کے بقول ان جھڑپوں میں سکیورٹی فورسز کے بھی دو اہلکار ہلاک اور بارہ زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ فریقین کے درمیان اب بھی میر علی کے مقام پر لڑائی جاری ہے۔ تاہم اس حکومتی دعوے کی آزاد ذرائع سےتصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

میران شاہ
پیر کی شام کو میرعلی کے قریب قائم دو چیک پوسٹوں پر مبینہ شدت پسندوں نے بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا

انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج نے پیر کی صبح مبینہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر ہونے والے حملوں میں ہیلی کاپٹروں کا استعمال بھی کیا۔

دوسری طرف پیر کو ہی شمالی وزیرستان سے تقریباً بیس کلومیٹر مغرب کی جانب واقع مداخیل کے علاقے میں حکومت نےایک نوٹس جاری کیا ہے جس میں ان لوگوں کو جو اٹھارہ جولائی کو فوجی قافلے پر ہونے والے حملے میں ملوث نہیں ہیں کہا گیا ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ حکومتی اقدام کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات سے بچنے کے لیے علاقہ چھوڑ دیں۔

پشتو زبان میں لکھے گئے اس نوٹس میں مداخیل کے قبائلی مشران کو مخاطب کرتے ہوئےکہا گیا ہے کہ انہیں انیس ، بیس اور اکیس جولائی کو متعدد بار کہا گیا کہ وہ اٹھارہ جولائی کو فوجی قافلے پر ہونے والے حملے سے متعلق غرلامئی قلعہ میں حاضر ہوجائیں مگر نوٹس کے مطابق کوئی بھی قبائلی مشر حاضرنہیں ہوا لہذا ’ آپ لوگوں کو خبر دار کیا جاتا ہے کہ تئیس جولائی کی شام چار بجے کے بعد حکومت کی طرف سے عملی قدم اٹھایا جائے گا لہذا آپ لوگ بے گناہ خواتین اوربچوں کو گھروں سے نکال دیں۔

جھڑپیں اور امن جرگہ ساتھ ساتھ
 شمالی وزیرستان میں فوج اور مبینہ شدت پسندوں کے درمیان جھڑپوں میں ایسے وقت میں شدت آئی ہے جب پینتالیس رکنی جرگے حکومت اور طالبان کے درمیان گزشتہ سال ستمبر میں ہونے والے امن معاہدے کو بحال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے

فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد کا کہنا تھا کہ یہ نوٹس ان لوگوں کو جاری کیا گیا جن کے گھروں سے فوجی قافلے پرحملہ ہواتھا۔ اٹھارہ جولائی کو لواڑہ منڈی سے میرانشاہ آنے والے فوجی قافلے پر مداخیل کے مقام پر ہونے والے اس حملے میں تقریباً اٹھارہ فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

شمالی وزیرستان میں فوج اور مبینہ شدت پسندوں کے درمیان جھڑپوں میں ایسے وقت میں شدت آئی ہے جب پینتالیس رکنی جرگے حکومت اور طالبان کے درمیان گزشتہ سال ستمبر میں ہونے والے امن معاہدے کو بحال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ جرگے نے طالبان کے ساتھ ملاقات کے بعد پیرکو ایک ملاقات کے دوران گورنر سرحد کو طالبان کے ساتھ ہونے والی مذاکرات کی تفصیلات سے آگاہ کیا تھا۔

اسی بارے میں
میران شاہ حملہ،3 فوجی ہلاک
22 January, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد