BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 July, 2007, 21:02 GMT 02:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
معلومات کی کمی والدین پریشان

سپورٹس سٹیڈیم کے باہر منتظرطلباءکے رشتے دار
فوجی کارروائی میں مرنے، زخمی ہونے اورگرفتارطلباء کےوالدین پریشان ہیں
اسلام آباد میں واقع لال مسجد میں فوجی آپریشن کی وجہ سے نافذ کرفیو اور مدرسے کےگرفتار، ہلاک اور زخمی ہونے والے طلباء کے بارے میں معلومات کی عدم دستیابی کی وجہ سے ان کے والدین شدید پریشان ہیں۔

فوجی آپریشن کی وجہ سے گزشتہ چھتیس گھنٹوں کے مسلسل کرفیو کے بعد بدھ کی شام چار بجے دو گھنٹے کی نرمی کی گئی۔

فوجی کارروائی تو ختم ہوگئی اور اب ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے لیکن اس کے باوجود بھی کرفیو میں نرمی کے دوران لال مسجد کے ارد گرد کسی کو جانے نہیں دیا گیا اور علاقے میں فوجی تعینات رہے۔

ایسی صورتحال کی وجہ سے لال مسجد کے آس پاس کے ہزاروں مکینوں کو بہت زیادہ دشواریاں اٹھانی پڑ رہی ہیں۔

جی سکس کی رہائشی بلقیس خاتون نے بتایا کہ ایک ہفتے سے کرفیو کی وجہ سے وہ خود توپریشان ہیں ہی ساتھ ہی مسلسل فائرنگ اور دھماکوں کی وجہ سے ان کے بچےنفسیاتی مریض بن گئے ہیں۔ ان کے مطابق بچے رات کو بھی سو نہیں پاتے اور خوفزدہ رہتے ہیں۔

ایک اور مکین عنایت الرحمٰن نے کہا کہ حکومت نے چار گھنٹے میں آپریشن ختم کرنے کا دعوٰی کیا تھا لیکن اب تیسرا دن شروع ہونے والا ہے۔ انہوں نے جہاں کھانے پینے کی اشیاء کی قلت کا شکوہ کیا وہاں سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کے رویے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اہلکار بدتمیزی کرتے ہیں۔

متاثرہ علاقے کے رہائشی
علاقے میں کرفیو میں ڈھیل کے دوران خواتین

ادھر لال مسجد سے منسلک لڑکیوں کے مدرسے جامعہ حفصہ اور لڑکوں کے مدرسے جامعہ فریدیہ کی فوجی کارروائی میں مرنے، زخمی ہونے اور گرفتار کیے جانے والے طلباء کے والدین سخت پریشان ہیں۔

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر سے لے کر پشاور تک مختلف علاقوں کے بیسیوں بچوں کے والدین اور عزیز و اقارب اسلام آباد کے جناح سپورٹس گراؤنڈ میں موجود ہیں۔

محمد عباس نامی شخص نے بتایا کہ ان کے بھانجے کا نام دو روز قبل راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں آویزاں کردہ فہرست میں شامل تھا لیکن آج انہیں بتایا گیا کہ انہیں خفیہ ایجنسی کے اہلکار ساتھ لے گئے ہیں۔

بعض متاثرہ بچوں کے ورثا کا دعویٰ ہے کہ حکومت نے خواتین اور بچوں سمیت متعدد ہلاکتیں کی ہیں اس لیے معلومات چھپا رہے ہیں اور میڈیا کو لال مسجد اور جامعہ حفصہ جانے سے روکا جا رہا ہے۔

سپورٹس سٹیڈیم سے رہا ہونے والا طالب علم
سپورٹس سٹیڈیم سے رہا ہو کر اپنے رشتے داروں سے ملتے ہوئے ایک طالب علم

پشاور سے آنے والے ضعیف العمر زر محمد خان نے بتایا کہ وہ چھ روز سے ادھر ادھر بھاگ رہے ہیں لیکن تاحال انہیں اپنے حافظ قرآن چودہ سالہ بھانجے کا پتہ نہیں چل رہا ہے کہ وہ زندہ ہے ، مارا گیا یا پھر گرفتارکر لیا گیا۔

ایک توحکومت نے آپریشن میں مارے جانے یا گرفتار کیے جانے والوں یا پھرزخمی ہونے والوں کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کیں دوسرے فوجی کارروائی مکمل ہوجانے کے بعد بھی کرفیو برقرار رکھنے کے بعد مارے جانے والوں کی تعداد کے متعلق حکومتی دعویٰ کے بارے میں شکوک وشبہات بڑھ رہے ہیں۔

لیکن حکومت ایسے تاثر کو رد کرتے ہوئے دعویٰ کر رہی ہے کہ ابھی آپریشن کا دوسرا مرحلہ یعنی ملبہ وغیرہ ہٹانے کا کام جاری ہے اور اس کے خاتمے کے بعد ہی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو وہاں جانے کی اجازت دیں گے۔

اسی بارے میں
8 فوجی ہلاک، 29 زخمی ہوئے
10 July, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد