ہلاکتوں کا اعلان آپریشن کےخاتمے پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لال مسجد کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائی کو اڑتیس گھنٹوں سے زائد کا وقت گزر جانے کے باوجود حکومت نہ تو مکمل کنٹرول حاصل کر پائی ہے اور نہ مرنے والے شدت پسندوں اور عام شہریوں کی ہلاکت کی صحیح تعداد بتا پائی ہے۔ پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے لال مسجد کے قریب سرینڈر پوائنٹ پر آج دو پہر صحافیوں کو ایک بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ آپریشن ابھی جاری ہے لہٰذا وہ تعداد نہیں بتا سکتے۔ ’جب کارروائی ختم ہوگی تب ہی درست تعداد بتائی جائے گی۔‘ سکیورٹی فورسز نے منگل کی صبح چار بجے لال مسجد پر مذاکرات کی ناکامی کے فوراً بعد مسجد و مدرسے پر حملہ کر دیا تھا جو بدھ کی سہہ پہر تک جاری تھا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اس وقت آپریشن کا دوسرا مرحلہ یعنی علاقے کو محفوظ بنانے میں مصروف ہیں۔ ’مسجد میں گولہ بارود اور بارودی سرنگوں کی صفائی جاری ہے۔ تاہم بہت چھوٹے علاقے میں مزاحمت بھی جاری تھی۔ ہم توقع کر رہے ہیں کہ یہ آج مکمل کر لی جائے گی جس کے بعد آج شام یا پھر کل صبح صحافیوں کو مسجد کا دورہ کرایا جائے گا۔‘ لال مسجد کے علاقے سے وقفہ وقفہ سے فائرنگ اور دھماکے دوپہر تک جاری تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر دس سکیورٹی اہلکار جن میں لیفٹنٹ کرنل ہارون اسلام بھی شامل تھے ہلاک جبکہ تینتیس زخمی ہوئے۔ دو سپاہی کل رات اور آج صبح زخمی ہوئے۔ البتہ عام شہریوں اور شدت پسندوں کی ہلاکت کے تعداد کے بارے میں بار بار سوالات کا جواب نہیں دیا گیا۔ انہوں نے ایدھی فاؤنڈیشن کی طرف سے 200 کفن منگوانے کی اطلاعات سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکام کی جانب سے ایدھی فاؤنڈیشن کو ایسی کوئی ہدایات جاری نہیں کی گئیں کیونکہ ابھی تک مرنے والوں کی حتمی تعداد کا کسی کو بھی علم نہیں۔ فوج کے ترجمان نے پہلی مرتبہ آپریشنل تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس میں ایک سو چونسٹھ کمانڈوز نے حصہ لیا۔ ’مسجد کے گرد پہلا گھیرا رینجرز اور پولیس کا تھا جبکہ دوسرا فوج نے ڈال رکھا تھا۔‘ وحید ارشد کا اندازہ تھا کہ ڈیڑھ سے اڑھائی سو افراد کارروائی کے آغاز پر اندر ہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آپریشن کے آغاز کے بعد 84 افراد باہر آئے جنہیں حراست میں لے کر پوچھ گچھ جاری ہے۔ وزرات داخلہ کے ترجمان جاوید اقبال چیمہ کا کہنا ہے کہ غازی عبدالرشید کی میت کو اُن کے آبائی گاؤں میں لے جانے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے اور مولانا عبدالعزیز اُن کی میت کے ساتھ وہاں جائیں گے اور جنازہ بھی ادا کر سکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عبدالرشید غازی کا پوسٹ مارٹم بھی کروایا جا چکا ہے۔ حکومت نے اب تک پچاس افراد کی مسجد کے اندر ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ فوج کی جانب سے ہلاک ہونے والے شدت پسندوں اور عام شہریوں کی تعداد نہ بتانے اور صحافیوں کے ہسپتالوں میں داخلے پر پابندی سے شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں۔ بعض لوگ یہ الزام لگا رہے ہیں کہ شاید یہ حکومت کی جانب سے کچھ چھپانے کی کوشش ہوسکتی ہے۔ | اسی بارے میں لال مسجد اور میڈیا: شہید کون؟10 July, 2007 | پاکستان ’ہم آپریشن نہیں رکوا سکتے‘10 July, 2007 | پاکستان ’فائرنگ کی آواز دل پر لگتی ہے‘ 10 July, 2007 | پاکستان ’میرا بیٹا دہشتگرد نہیں صحافی تھا‘09 July, 2007 | پاکستان ’تیس طالبات اجتماعی قبر میں دفنائیں‘07 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||