افغانستان میں دس پولیس والے ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے سرحدی شہر سپن بولدک میں ہونے والے ایک خود کش حملے میں دس پولیس والے ہلاک اور گیارہ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حملہ آور نے یہ دھماکہ ایک پولیس چوکی کے قریب ایک کمرے میں کیا جہاں پولیس والے کھانا کھا رہے تھے۔ خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق اس حملے میں سپن بولدک کے پولیس سربراہ بھی زخمی ہوئے۔ رائٹرز ایجنسی کے مطابق قندہار پولیس کے سربراہ سید آغا ثاقب نے دس لوگوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے جبکہ طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ایجنسی کے مطابق طالبان کے ایک ترجمان قاری محمد یوسف نے کہا: ’ یہ ایک خود کش حملہ تھا۔ ہمارے ایک طالب نے پولیس کی وردی پہنی اور پندرہ پولیس والوں کو ہلاک کر دیا۔‘ پولیس نے علاقے کو گھر لیا ہے۔
ادھر مشرقی افغانستان میں نیٹو کے ایک قافلے پر حملے میں ایک فوجی ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔ لیکن نیٹو نے فوجیوں کی قومیت ظاہر نہیں کی ہے۔ دریں اثنا، بلوچستان کے علاقہ ڈیرہ اللہ یار میں صحبت پور چوک پر ایک زور دار دھماکے سے ٹریفک پولیس کا ایک اہلکار ہلاک اور چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس اہلکاروں کے مطابق دھماکہ سائیکل میں نصب مواد سے ہوا۔ ایک ٹریفک کا سپاہی موقع پر ہلاک ہو گیا۔ جعفر آباد کے پولیس افسر سہیل احمد شیخ نے بتایا کہ یہ چوک کافی مصروف رہتا ہے اور یہاں خاص طور پر پولیس کی نفری تعینات رہتی ہے۔ تاہم تاحال یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس دھماکے میں پولیس کو ہی نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بارے میں تحقیقات کی جاری ہیں اور ابھی کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ اس کے علاوہ دو روز پہلے ڈیرہ بگٹی میں سکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی تھی جس میں چار اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ اپنے آپ کو مسلح قبائلیوں کا ترجمان ظاہر کرنے والے وڈیرہ عالم خان نے ٹیلیفون پر بتایا تھا کہ اس حملے میں چھ اہلکار زخمی ہوئے تھے جن میں سے دو ہسپتال میں دم توڑ گئے تھے لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ |
اسی بارے میں پاک افغان جرگہ: ایجنڈے پر اتفاق05 June, 2007 | پاکستان داد اللہ دفن، ایک مغوی قتل، چار رہا07 June, 2007 | پاکستان واپسی لیکن خوشی سے نہیں20 June, 2007 | آس پاس میانی شین ضلع طالبان سے لےلیاگیا20 June, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||