BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 16 June, 2007, 11:11 GMT 16:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوہلو میں طلباء کے لیے وضائف

بلوچ احتجاج(فائل فوٹو)
بلوچستان میں فوجی آپریشن کے خاتمے کے لیے احتجاج
حکومت پاکستان نےبلوچستان کے شورش زدہ ضلع کوہلومیں چماولنگ فلاحی فنڈ سےگیارہ سوسے زیادہ طلبہ کوماہانہ وظیفہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ جمعہ کو کوہلو میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں مری قبائل اور اعلیٰ فوجی افسران کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب میں پانچ سو نئے طلبہ کو مختلف سکولوں میں داخلہ دیا گیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کور کمانڈر کوئٹہ کے چیف آف اسٹاف میجرجنرل ناصرخان جنجوعہ نےکہا کہ چماولنگ ایجوکیشن پروگرام کے تحت ضلع کوہلو کے135 طلبہ کوملک کے مختلف آرمی تعلیمی اداروں میں بھی مفت تعلیم دی جائے گی تاکہ کوہلو کے بچوں کوتعلیم کی طرف راغب کیا جا سکےاور علاقے کو تعلیم یافتہ معاشرے میں تبدیل کیا جا سکے۔

میجرجنرل ناصرخان کے مطابق لورالائی کے 250 طلبہ کے لیے بھی جلد اس طرح کے وظائف کا اعلان کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ مری فورس کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو بلوچستان کی پولیس میں بھرتی کیا جائے گا۔

چماولنگ فنڈ اس سال مارچ میں اس وقت قائم کیا گیا تھا جب بلوچ، مری اور پشتون لونی قبائل کے درمیان 1973 میں چماولنگ میں کوئلے کی دریافت کے بعد سے جاری قبائلی جھگڑا حکومتی مداخلت سےگزشتہ سال چھ دسمبرکوایک معاہدے کے تحت ختم ہوا تھا۔ اس لڑائی میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔

بتیس سال بعد سال رواں کے مارچ میں دوبارہ چماولنگ کے پہاڑوں سے کوئلہ نکالنے کا کا م کا شروع ہوا ہے جس میں 15 ہزار سے زیادہ افراد کو روزگار مل رہا ہے۔

کوہلو سے فوجی آپریشن کی اطلاعات مل رہی ہیں
چماولنگ میں فوجی حکام کے مطابق سردیوں میں کوئلہ نکالنے کا کام مزید تیزہو جائے گا اور روزانہ 10 ہزارٹن تک کوئلہ نکالا جائے گا۔

واضع رہے کہ حکومت نے چماولنگ سے نکلنے والے کوئلے پرفی ٹن کے حساب سے ٹیکس لگایا ہے جس سے ہونے والی آمدنی کا بڑاحصہ علاقے میں تعلیم، صحت اور سڑکوں کی تعمیر پرخرچ کی جائے گی۔

فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اس فلاحی فنڈ سے علاقے میں ترقی کے نئے مواقع میسرآئیں گےاور بقول ان کے جو لوگ ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ ہتھیار ڈال کر ترقی کے اس سفرمیں شامل ہوجائیں۔ کوہلومیں ہونے والی تقریب سے مسلم لیگ کے سینیٹراور مری قبیلے بجارانی شاخ کے رہنما محبت خان مری نے کہا ہے کہ جب تک کوہلو میں فوجی چھاؤنی قائم نہیں ہوتی اوریہاں سے فراری کیمپوں کوختم نہیں کیا جاتا ہے علاقے کی ترقی ناممکن ہے۔

انہوں نے حکومت سے کوہلو، سبی روڈ سمیت علاقے کے دیگرعلاقوں سےبارودی سرنگیں صاف کرنے کابھی مطالبہ کیا جو بقول ان کے مری قبائل کی ترقی کے خلاف نوابوں نے بچھا رکھی ہیں۔

اس موقع پرکوہلو کے ناظم گل محمد مری نے کہا کہ جب تک بلوچستان کےمسئلے کومذاکرات سے حل نہیں کیا جائے گا اس وقت تک حالات ٹھیک نہیں ہو سکتے۔

مری قبیلے کے سربراہ نواب خیر بخش مری معدنی وسائل کونکالنے کے خلاف ہیں کیونکہ ان کے بقول معدنی وسائل سےہونے والی آمدنی کو بلوچستان کے عوام کی ترقی پرخرچ نہیں کیا جاتا ہے۔ لیکن حکومت کا موقف ہے کہ ان ذخائر کو بروئے کار لانے سے بلوچستان کے عوام کوجلد ترقی کے ثمرات نظر آئیں گے۔

اسی بارے میں
کوہلو: بیس ہلاکتوں کا دعویٰ
20 January, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد