کوہلو میں دھماکہ، ایک ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شہر کوہلو کے سول ہسپتال کے گائنی وارڈ کے لیبر روم میں ایک دھماکہ ہوا ہے جس میں ایک خاتون ہلاک جبکہ ایک بچی اور ایک خاتون زخمی ہوگئے ہیں۔ دھماکہ سنیچر کو شام کے وقت ہوا ہے۔ کوہلو کے ضلعی ناظم انجینیئر علی گل مری نے کہا ہے کہ دھماکے سے دو عورتیں اور ایک بچی زخمی ہو گئے تھے لیکن ایک خاتون ملتان ہسپتال پہنچنے سے پہلے دم توڑ گئی ہے۔ کوہلو میں راکٹ باری اور بم دھماکے معمول سے ہوتے رہے ہیں لیکن آج تک یہ واضع نہیں ہو سکا کہ ان دھماکوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ انجینیئر علی گل مری نے کہا ہے کہ کوہلو میں جو بھی اس طرح کی کارروائی کرتا ہے الزام نواب کے لوگوں پر ہی آتا ہے ۔اس دھماکے کے بارے میں اب تک معلوم نہیں ہو سکا کہ دھماکہ کن لوگوں نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کھلی دہشت گردی ہے اور وہ اس طرح کی کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ کوہلو میں گزشتہ سال دسمبر میں اس وقت فوجی کارروائی شروع کی گئی جب صدر جنرل پرویز مشرف کے کوہلو کے دورے کے دوران نا معلوم افراد نے راکٹ داغے تھے۔ بلوچ قوم پرستوں کا کہنا ہے کہ کوہلو اور ڈیرہ بگٹی میں فوجی کارروائی بلوچستان کے وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے شروع کی گئی ہے کیونکہ یہ صوبہ گیس تیل اور معدنیات کی دولت سے مالا مال ہونے کے ساتھ ساتھ سات سو کلومیٹر طویل ساحل کا مالک ہے۔ وفاقی حکومت بلوچستان میں تین نئی چھاونیاں قائم کر رہی ہے جس کے خلاف بلوچستان اسمبلی متفقہ قرار داد منظور کر چکی ہے۔ وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فوجی کارروائی ان لوگوں کے خلاف شروع کی گئی ہے جو بلوچستان میں بم دھماکوں اور راکٹ باری کے واقعات میں ملوث ہیں۔ | اسی بارے میں کوہلو دھماکے: ہیلی کاپٹروں کی پروازیں30 June, 2006 | پاکستان کوہلو دھماکہ: دو ہلاک، بیس زخمی10 April, 2006 | پاکستان کوہلو میں دھماکہ 1 ہلاک 13 زخمی23 March, 2006 | پاکستان فوجی کارروائی، وفد کوہلو روانہ26 December, 2005 | پاکستان کوہلو میں مزید حملوں کی اطلاعات 21 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||