’سیو دی چِلڈرن‘ کے دفترکےباہردھماکہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے صدر مقام لنڈی کوتل میں قائم سرکاری ہسپتال میں واقع ایک عالمی امدادی ادارے ’سیو دی چلڈرن‘ کے دفتر کے ساتھ ہونے والےایک بم دھماکہ میں دو مقامی افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ ایجنسی ہیڈ کورارٹر ہسپتال کے میڈیکل سپرانٹنڈنٹ ڈاکٹر زار عالم نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکہ جمعہ کی دوپہر ایک بجے پیش آیا ہے جس میں جونیئر کلرک زردان خان اور اردلی خائستہ خان معمولی زخمی ہوگئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بم دھماکے کا ہدف بظاہر بچوں کے حقوق کا دفاع کرنے والی غیر سرکاری تنظیم’سیو دی چلڈرن‘ کا دفتر تھا۔ ڈاکٹر زار عالم کا کہنا تھا کہ دھماکہ اس وقت ہوا جب ہسپتال کا عملہ اور مریض جمعہ کی نماز پڑھنے گئے تھے ۔انہوں نے مزید بتایا کہ سیو دی چلڈرن نے ایک ماہ قبل ہسپتال میں اپنا دفتر قائم کیا تھا۔ پولیٹکل انتظامیہ نے واقعہ کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ بم دھماکے میں آتش گیر مادے کا استعمال کیا گیا ہے۔ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس سلسلے میں ابھی تک کسی قسم کی کوئی گرفتاری عمل نہیں لائی گئی ہے اور نہ ہی کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا جا سکا ہے۔ تاہم مقامی لوگ دھماکے کی ایک وجہ گزشتہ کچھ عرصے سے ہسپتال انتظامیہ کے آپس میں جاری اختلافات کو بھی قرار دے رہے ہیں ۔ واضح رہے ماضی میں بھی صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں ملکی اور عالمی امدادی اداروں کو بم حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے کیونکہ علاقے میں موجود دینی علماء عام لوگوں کو مبینہ طور پر اس بات پر اکساتے رہے ہیں کہ این جی اوز مغربی مفادات اور کلچر کو فروغ دینےمیں مصروف عمل ہیں۔ | اسی بارے میں مردان: لڑکیوں کے سکول میں دھماکہ11 May, 2007 | پاکستان دھماکہ:سابق فراری کمانڈر زخمی12 May, 2007 | پاکستان پشاور:خودکش دھماکہ، 25 ہلاک15 May, 2007 | پاکستان پٹڑی پر دھماکہ، پانچ دیسی بم ناکارہ28 May, 2007 | پاکستان پشاور میں دھماکہ، نو زخمی29 May, 2007 | پاکستان پاکستان، افغانستان بس سروس کا آغاز15 March, 2006 | پاکستان پشاور و قبائلی علاقوں میں احتجاج03 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||