عزیزاللہ خان بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ |  |
 | | | فائل فوٹو: گوادر بندرگاہ |
بلوچستان اسمبلی نے بلوچستان کے ساحل پر سونمیانی کے مقام پر نئی بندرگاہ کے قیام کو مسترد کر دیا ہے۔ دوسری جانب وفاقی وزیر بابر غوری نے کراچی میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ سونمیانی میں الہ دین بندرگاہ اور سٹی بنانے پر ان کے پاس کوئی اعتراض نہیں آیا ہے اور ان معاملات کو بلوچستان حکومت دیکھ رہی ہے۔ جمعرات کو بلوچستان اسمبلی میں متحدہ مجلس عمل نے سونمیانی کے مقام پر بندرگاہ کی مخالفت میں ایک تحریک پر حزب اختلاف کا ساتھ دیا جبکہ حکمران مسلم لیگ کے چند ارکان ہی موجود تھے جنہوں نے اس کی کوئی مخالفت نہیں کی۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے اس سال مارچ میں گوادر میں گہرے پانی کی بندرگاہ کے افتتاح کے موقع پر بلوچستان کے ساحل پر سونمیانی کے مقام پر ایک اور بندرگاہ قائم کر نے کا اعلان کیا تھا۔ یاد رہے کہ بلوچستان کی قوم پرست جماعتیں گوادر میگا پراجیکٹ کی بھی مخالفت کر رہی ہیں۔  | بلوچستان کے لوگوں کی مرضی؟  قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ کی تحریک التوا پرجمعرات کو بحث ہوئی جس پر بیشتر اراکین نے اپنے اپنے خدشات کا اظہار کیا اور آخر میں اس تحریک التوا کو قرار داد کی شکل میں منظور کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے کہا گیا ہے کہ بلوچستان کے لوگوں کی مرضی کے بغیر اس منصوبے پر کام نہ کیا جائے۔  |
قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ کی تحریک التوا پر جمعرات کو بحث ہوئی جس پر بیشتر اراکین نے اپنے اپنے خدشات کا اظہار کیا اور آخر میں اس تحریک التوا کو قرار داد کی شکل میں منظور کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے کہا گیا ہے کہ بلوچستان کے لوگوں کی مرضی کے بغیر اس منصوبے پر کام نہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر جہاز رانی بابر غوری نے پانچ لاکھ ایکڑ زمین سے زیادہ رقبہ اونے پونے داموں حاصل کرنے کے لیے کوششیں کی ہیں اور اس کا مقصد کراچی کے لوگوں کو یہاں آباد کر کے بلوچوں کو اقلیت میں تبدیل کرنا ہے۔ متحدہ مجلس عمل کے اراکین نے بھی اس منصوبے پر اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس منصوبے پر عملدرآمد نہیں ہونا چاہیے۔ یاد رہے کہ دو ہزار تین میں بلوچستان اسمبلی نے بلوچستان میں تین نئی چھاؤنیوں کے قیام کے خلاف ایک قرار داد متفقہ طور پر منظور کی تھی لیکن اس کے باوجودسوئی میں چھاؤنی قائم کر دی گئی ہے ۔ کوہلو اور گوادر میں چھاؤنیوں کے قیام کے لیے کام ہو رہا ہے۔ وفاقی وزیر کا بیان
 | وفاقی وزیر کا موقف  جہاز رانی اور بندرگاہوں کے وفاقی وزیر بابر غوری کا کہنا ہے کہ سونمیانی میں آلہ دین بندرگاہ اور سٹی بنانے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں ملا ہے اور ان معاملات کو بلوچستان حکومت دیکھ رہی ہے۔  |
کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق جہاز رانی اور بندرگاہوں کے وفاقی وزیر بابر غوری نے کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خاطب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بلوچستان حکومت نے یہ بندرگاہ بنانے کی درخواست کی تھی اور اس منصوبے پر بلوچستان حکومت کی مدد سے کام کیا جارہا ہے۔بابر غوری نے بتایا کہ صوبائی حکومت اس علاقے میں ڈیمارکیشن کر رہی ہے۔ اس بارے میں ایک اجلاس وزیر اعظم کے ساتھ ہوچکا ہے اور ایک حتمی اجلاس ابھی ہونا کوشش ہے کہ اسی سال اس بندرگاہ کا افتتاح کردیا جائے ۔ کیٹی بندر پورٹ کی تعمیر وفاقی وزیر نے بتایا کہ سندھ کے ضلعہ ٹھٹہ میں کیٹی بندر کے مقام پر ایک چھوٹی بندرگاہ بنانے کے لیے کام شروع کردیا گیا ہے۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم نے اس بندرگاہ کی تعمیر کے لیے کہا تھا اور اسی سال اس کا افتتاح کیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ گوادر بندرگاہ پورٹ آف سنگاپور کے حوالے کردی گئی ہے۔ اب کمپنی اس کو اپ ڈیٹ کر رہی ہے۔ دو تین ماہ کے بعد اس سے آمدنی شروع ہوجائی گی۔ |