BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 23 May, 2007, 08:33 GMT 13:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خضدار: ڈاکٹروں کی علامتی ہڑتال

ہڑتال (فائل فوٹو)
خضدار، قلات، سوراب اور وڈھ میں دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے (فائل فوٹو)
بلوچستان میں ڈاکٹروں نے بدھ کو پولیس کے رویے کے خلاف علامتی ہڑتال کی۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن، بلوچستان میڈیکل ایسوسی ایشن اور پیرا میڈیکل ایسوسی ایشن کی اپیل پر خضدار سول ہسپتال میں پولیس کے پُر تشدد رویے کے خلاف دو گھنٹے کی ہڑتال کی۔ ڈاکٹروں نے متعلقہ پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

خضدار اور قریبی علاقوں میں مکمل ہڑتال کے باعث کاروباری مراکز بند رہے۔

یاد رہے گزشتہ روز خضدار میں سول ہسپتال کے ایک ڈاکٹر اور پولیس انسپکٹر کے درمیان تلخ کلامی کے بعد پولیس نے مبینہ طور پر فائرنگ کی اور آنسو گیس کے گولے پھینکے جس سے دو ڈاکٹروں سمیت ہسپتال کے سات اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی نے بھی اس سے قبل خضدار پولیس، انتظامیہ کے رویے اور جماعت کے قائد سردار اختر مینگل سمیت دیگر کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف بدھ کو شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔

خضدار سے ڈاکٹر سومر بلوچ نے بتایا کہ خضدار میں مکمل ہڑتال ہے اور ہسپتال میں ایمرجسنی کے علاوہ ڈاکٹر کام نہیں کر رہے ہیں اور اگر ایف آئی آر درج نہیں کی جاتی تو ایمرجنسی میں بھی ڈاکٹر کام روک دیں گے۔

 گزشتہ روز خضدار میں سول ہسپتال کے ایک ڈاکٹر اور پولیس انسپکٹر کے درمیان تلخ کلامی کے بعد پولیس نے مبینہ طور پر فائرنگ کی اور آنسو گیس کے گولے پھینکے جس سے دو ڈاکٹروں سمیت ہسپتال کے سات اہلکار زخمی ہو گئے تھے

خضدار، قلات، سوراب، وڈھ اور دیگر علاقوں میں دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے۔

خضدار میں مظاہرین نے سڑکیں بند کرنے کے لیے ٹائر جلانے کی کوشش کی تو پولیس ان انہیں منتشر کر دیا۔

سول ہسپتال خضدار کے ڈاکٹر سومر بلوچ نے گزشتہ روز بی بی سی کو بتایا تھا کہ گزشتہ روز ایک مریض کے علاج پر پولیس کے ایڈیشنل سب انسپکٹر اور ڈاکٹر کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور منگل کی صبح ڈاکٹروں کے راؤنڈ کے وقت مذکورہ پولیس انسپکٹر موجود تھے اور ایک مرتبہ پھر ہاتھاپائی ہوئی جس میں ڈاکٹر کو چوٹیں آئیں۔

زخمی ہونے والے ڈاکٹر جلیل نے بتایا تھاکہ اس واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری نے ہسپتال کو گھیرے میں لے کر فائرنگ کی اور آنسو گیس کے شیل پھینکے۔ بعدازاں خضدار میں تمام کاروباری مراکز بند کر دیے گئے۔ ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف نے احتجاجی ریلی نکالی اور پولیس اور حکومت کے خلاف سخت نعرہ بازی کی۔

اسی بارے میں
خضدار دھماکہ، ایک ہلاک
25 November, 2004 | پاکستان
خضدار اور نوشکی میں دھماکے
05 February, 2005 | پاکستان
بلوچستان: تین بچے ہلاک
22 April, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد