بلوچستان: صوبائی وزیر کا بیٹا قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبائی وزیر سماجی بہبود بیگم پروین مگسی کے بیٹے غلام مصطفی مگسی کو مبینہ طور کسانوں نے گولی مار کر ہلاک جبکہ ان کے دو محافظوں کو زخمی کر دیا ہے۔ بلوچستان کے ضلع جھل مگسی کے انتظامی افسر سعید احمد عمرانی نے بتایا ہے کہ غلام مصطفی تبڑی کے علاقے میں کسانوں سے فصل کا حصہ لینے گئے تھے، جہاں کسانوں نے ان پر فائرنگ کر دی۔ ان کے زخمی ہونے والے محافظوں کے نام عبدالنبی اور طارق بتائے گئے ہیں۔ سعید عمرانی کا کہنا تھا کہ قتل کی وجہ زمین کا تنازعہ ہو سکتا ہے۔ پولیس ملزمان کو گرفتاری کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ غلام مصطفی صوبائی وزیر سماجی بہبود بیگم پروین مگسی اور سابق صوبائی وزیر یوسف مگسی کے بیٹے تھے اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ذوالفقار مگسی کے چچا زاد بھائی تھے۔ مقامی صحافی رحمت اللہ بلوچ نے بتایا کہ کے اس واقعہ کے بعد علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مگسی قبیلے کے لوگ علاقے میں پہنچ رہے ہیں۔ | اسی بارے میں جائیداد کے لیے بھائی کا خاندان ختم26 April, 2007 | پاکستان بلوچستان: کم از کم چار اہلکار ہلاک09 April, 2007 | پاکستان کراچی: بلوچ سینیٹر کے بیٹے کا قتل27 February, 2007 | پاکستان زمیندار مظاہرہ: دس زخمی،150گرفتار22 April, 2006 | پاکستان سابق ایم این اے سمیت چار ہلاک 02 January, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||