بلوچستان: کم از کم چار اہلکار ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے علاقہ کاہان کے قریب تراتانی کے مقام پر سکیورٹی فورسز کی گاڑی کو دھماکے سے اڑایا گیا ہے جس میں کم سے کم چار اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ کاہان سے آمدہ اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی دھماکہ خیز مواد سے ٹکرائی ہے جس میں سوار اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ کم سے کم دو اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں۔ دریں اثنا اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے بیبرگ بلوچ نامی شخص نے ٹیلیفون پر کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی تین گاڑیاں جا رہی تھیں جن میں سے ایک کو دھماکے سے اڑایا گیا ہے جس کے بعد فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔ بیبرگ بلوچ نے دعوی کیا ہے کہ اس واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے میں کوہ دلبند، جوہان، سپرنجی اور تری کے مقامات پر فضائی حملے کیے ہیں لیکن مسلح قبائلیوں کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔ سرکاری سطح پر ان دعووں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ بلوچستان حکومت کے ترجمان رازق بگٹی سے رابطہ کیا تو انہوں نے اس بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ اس کے علاوہ بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے رہنما محی الدین نے کہا ہے کہ تربت سے ان کے ایک کارکن کو خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے اٹھایا ہے جبکہ گزشتہ روز جمہوری وطن پارٹی کے ایک اور رہنما عبیداللہ عمرانی لاپتہ ہوئے ہیں۔ تین روز پہلے جمہوری وطن پارٹی کے رہنما رفیق کھوسو کے بھائی نے دعوی کیا تھا کہ رفیق کھوسو کو خفیہ ایجنسی کے اہلکار اٹھا کر لے گئے ہیں۔ |
اسی بارے میں تربت میں دھماکہ02 January, 2005 | پاکستان کوئٹہ دھماکہ: دو افراد گرفتار 18 December, 2004 | پاکستان کوئٹہ: سیکرٹیریٹ میں دھماکہ18 December, 2004 | پاکستان فرنٹیئر کور پر حملہ، چار ہلاک25 December, 2004 | پاکستان کوئٹہ میں راکٹ حملہ27 December, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||