خضدار: پولیس کی ’ہوائی فائرنگ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شہر خضدار میں پولیس نے مبینہ طور پر منگل کی صبح ایک ہسپتال میں آنسو گیس کے گولے پھینکے اور ہوائی فائرنگ کی ہے جس سے ڈاکٹروں سمیت ہسپتال کے کم سے کم پانچ اہلکار زخمی ہوئے ہیں جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ سول ہسپتال خضدار کے ڈاکٹر سومر بلوچ نے بتایا ہے کہ گزشتہ روز ایک مریض کے علاج پر پولیس کے ایڈیشنل سب انسپکٹر اور ڈاکٹر کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور منگل کی صبح ڈاکٹروں کے راؤنڈ کے وقت مذکورہ پولیس انسپکٹر موجود تھے اور ایک مرتبہ پھر ہاتھاپائی ہوئی جس میں ڈاکٹر کو چوٹیں آئی ہیں۔ زخمی ہونے والے ڈاکٹر جلیل نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری نے ہسپتال کو گھیرے میں لے کر فائرنگ کی اور آنسو گیس کے شیل پھینکے جس سے ڈاکٹروں سمیت پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ہسپتال کے پیرا میڈیکل سٹاف نے جب یہاں بی بی سی کو ٹیلیفون کیا تو اس وقت فائرنگ کی آوازیں اور لوگوں کے بھگدڑ کی آوازیں سنی جا سکتی تھیں۔ اس سلسلے میں خضدار کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس اور سپرنٹنڈنٹ پولیس کے علاوہ کوئٹہ میں بلوچستان کے انسپکٹر جنرل آف پولیس سے رابطے کی بارہا کوشش کی گئی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ خضدار کے ناظم نے کہا کہ وہ بعد میں اس پر بات کریں گے۔ اس واقعہ کے بعد خضدار شہر میں تمام کاروباری مراکز بند کر دیے گئے ہیں اور ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف نے احتجاجی ریلی نکالی اور پولیس اور حکومت کے خلاف سخت نعرہ بازی کی ہے۔ | اسی بارے میں خضدار دھماکہ، ایک ہلاک25 November, 2004 | پاکستان خضدار اور نوشکی میں دھماکے 05 February, 2005 | پاکستان بلوچستان: مظاہرے، چار رہنما گرفتار21 May, 2007 | پاکستان بلوچستان: صوبائی وزیر کا بیٹا قتل27 April, 2007 | پاکستان بلوچستان: تین بچے ہلاک22 April, 2007 | پاکستان بلوچستان: کم از کم چار اہلکار ہلاک09 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||