’ایک جنس کے حامل جوڑے‘ کو جیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور ہائی کورٹ نے اس جوڑے پر ہم جنس پرستی کا مقدمہ درج کرنے کا نوٹس دے دیا ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے خواتین ہونے کے باوجود آپس میں شادی کرلی ہے۔ عدالت کے حکم پر دونوں کو جیل بھجوا دیا گیا ہے۔ فیصل آباد کے شمائل راج (زرینہ) اور شہزینہ نے محبت کی شادی کی ہے۔ شمائل راج کے بقول وہ جنسی تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے اور اب وہ لڑکی نہیں بلکہ لڑکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سولہ سال میں ان کے جنسی تبدیلی کے دو آپریشن ہو چکے ہیں۔ عدالت کے حکم پر ان دونوں کو دو روز پہلے پولیس نے گرفتار کر لیا تھا اور منگل کو اس جوڑے کو عدالت میں پیش کیا گیا تو ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے لوگوں کا ایک ہجوم موجود تھا۔
عدالتی کارروائی شروع ہوئی تو جگہ کی قلت کی وجہ سے عام شہریوں کو کمرہ عدالت سے باہر جانے کا حکم دیا گیا۔ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی بڑی تعداد عدالت میں موجود رہی۔ ہائی کورٹ نے انہیں دو نوٹس جاری کیے ہیں۔ ایک میں ان سے غیر فطری فعل کے ارتکاب پر اور دوسرے نوٹس میں غلط بیانی کرنے پر تحریری جواب طلبی کی گئی ہے۔
لاہور ہائی کورٹ جسٹس خواجہ محمد شریف نے شمائل راج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’جب پوچھاگیا کہ آپ لڑکے ہیں یا لڑکی تو۔آپ نے صحیح جواب نہیں دیا اور بعد میں ڈاکٹروں کے سامنے بتا دیا کہ آپ پیدائشی لڑکی ہیں۔‘ شمائل راج نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ پہلے روز سماعت کے وقت عدالت میں ان کےدوست بھی موجود تھے جنہیں یہ علم نہیں تھا کہ وہ پیدائشی لڑکی ہیں اور ان کی خواہش تھی کہ یہ بات ان سے پوشیدہ رہے۔ اسی لیے ان سے یہ غلطی ہوئی۔ انہوں نے استدعا کی کہ انہیں معاف کردیا جائے۔ عدالت نے ان کی استدعا نظر انداز کرتے ہوئِے کہا کہ عدالت میں جھوٹا بیان اور غلط بیان حلفی داخل کرنے پر ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔ جسٹس خواجہ شریف نے اپنے ریمارکس میں یہ بھی کہا کہ مذہب (اسلام) اور معاشرہ اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کسی ایک جنس کے حامل افراد شادی کریں اور اگر دونوں میں شادی ہوئی ہے تو انہیں جواب دینا ہوگا کہ کیوں نہ ان کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ تین سو ستتر کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔
تعزیرات پاکستان کی دفعہ تین سو ستتر کے تحت غیر فطری فعل انجام دینے کےجرم ثابت ہونے کی صورت میں عمر قید اور غلط بیانی کا جرم ثابت ہونے پر سات برس قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔ عدالت نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ ہسپتال کے اس ڈاکٹر کو بھی آئندہ سماعت پر عدالت پیش کیا جائے جس نے شمائل راج کی جنس تبدیل کرنے کا آپریشن کیا ہے تاکہ ان سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس قانون کے تحت اس قسم کے آپریشن کر رہے ہیں۔ عدالت نے لڑکی شہزینہ کے والد طارق حسین کے وکیل گلزاربٹ کی استدعا مسترد کردی کہ کہ انہیں جیل کی بجائے دارالامان بھجوا دیا جائے ۔ تاہم عدالت نے شہزینہ کو فیصل آباد کی زنانہ جیل بھجوانے کی ہدایت کی جبکہ شمائل راج کو کوٹ لکھپت جیل بھجوادیا گیا ہے۔ جوڑے نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے اپنا وکیل تبدیل کر لیا ہے۔ ان کے نئے وکیل نےجواب دینے کے لیے دو ہفتے کی مہلت طلب کی لیکن عدالت نے ان کی یہ استدعا بھی مسترد کر دی اور کہا کہ وہ پچیس مئی کو اپنا جواب داخل کریں۔ کمرہ عدالت سے نکلتے ہوئے شہزینہ، شمائل راج کا بازو تھامے اس کے پہلو سے لگی ہوئی تھی شمائل راج کسی حد تک پریشان نظر آرہا تھا۔ عدالت سے واپسی پر ہجوم اتنا زیادہ تھا کہ انہیں پولیس کی گاڑی میں بٹھانا مشکل ہوگیا تھا۔ |
اسی بارے میں لاہور: لڑکیوں پر مشتمل جوڑا گرفتار20 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||