BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 10 May, 2007, 18:16 GMT 23:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہائی کورٹ میں دولہے کی جنس متنازعہ

جنوبی ایشیائی ہم جنس پرست
اگر دولہا لڑکا ہوتا تو میں ضرور شادی کر دیتا، معاشرہ ابھی اس طرح کی شادی کو قبول نہیں کرتا: لڑکی کے والد
پاکستان کے شہر فیصل آباد میں ایک شادی کے بعد یہ تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے کہ دولہا کو لڑکا تصور کیا جائے یا لڑکی۔

اس واقعہ کا انکشاف لاہور ہائی کورٹ کے روبرو پسند کی شادی کرنے والے اس جوڑے کی پولیس کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران ہوا۔

چونتیس سالہ شمائل راج نے، جن کا پہلا نام نازیہ تھا، عدالت میں ایک درخواست دائر کی جس میں کہا گیا کہ انہوں نے شہزینہ طارق کے ساتھ گزشتہ برس نو ستمبر کو پسند کی شادی کی لیکن ان کی بیوی کے گھر والے پولیس کے ذریعے انہیں ہراساں کررہے ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس خواجہ محمد شریف نے درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے لڑکی کے والد اور پولیس کو طلب کر لیا۔

عدالت کے روبرو لڑکی شہزینہ کے والد نے پیش ہوکر بتایا کہ شمائل راج درحقیقت لڑکی ہے جِس نے فیصل آباد کے ایک ہسپتال سے آپریشن کے ذریعے نسوانی اعضا جسم سے نکلوادیئے اور خود کو لڑکا ظاہر کر کے شہزینہ سے شادی کرلی ۔

ابھی ایک آپریشن باقی
 شمائل راج کی آواز مردوں والی ہے اور وہ باقاعدہ شیو کرتا ہے اور اس کا فیصل آباد میں کاروں کی خرید وفروخت کا کاروبار بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شمائل راج نے سولہ برس پہلے جنس کی تبدیلی کے دو آپریشن کرائے تھے اور ایک آپریشن ہونا باقی ہے۔
شمائل کے وکیل
عدالت نے اس انکشاف پر شمائل راج کے طبی معائنہ کا حکم دیا اور شمائل کو عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کی ۔

عدالتی حکم پر سروسز ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر اعجاز احمد بھٹی کی سربراہی میں پانچ رکنی میڈیکل بورڈ نے شمائل راج کا طبی معائنہ کیا۔

میڈیکل بورڈ نے اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کی، جس میں اس امر کی تصدیق کی گئی کہ شمائل لڑکی ہے اور ان کی بھاری مردانہ آواز اور چہرے پر بالوں کے سوا کوئی ایسی علامت نہیں ہے جس سے یہ ظاہر ہو کہ شمائل لڑکا ہے۔

شہزینہ کے والد نے عدالت کو بتایا کہ اگر شمائل لڑکا ہوتا تو ان کو شادی پر کوئی اعتراض نہ ہوتا، لیکن اسلام اور معاشرہ لڑکی کی لڑکی سے شادی کی اجازت نہیں دیتا۔ شمائل راج اور شہزینہ طارق شادی سے پہلے بھی قریبی رشتہ دار تھے۔

اس جوڑے کے وکیل زبیر افضل رانا نے بتایا کہ شمائل راج کی آواز مردوں والی ہے اور وہ باقاعدہ شیو کرتا ہے اور اس کا فیصل آباد میں کاروں کی خرید وفروخت کا کاروبار بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شمائل راج نے سولہ برس پہلے جنس کی تبدیلی کے دو آپریشن کرائے تھے اور ابھی ایک آپریشن ہونا باقی ہے۔

عدالت نے میڈیکل رپورٹ سامنے آنے کا بعد شمائل راج اور شہزینہ کے عدالت میں پیش نہ ہونے اور عدالت میں غلط بیانی کرنے پر دونوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں اور فیصل آباد پولیس کو حکم دیا کہ متنازعہ جوڑے کو حراست میں لے کرسولہ مئی کو عدالت میں پیش کیا جائے۔

فیصل آباد پولیس کے انسپکٹر میاں خالد محمود نے بتایا کہ متنازعہ جوڑا روپوش ہے اور ان کی گرفتاری کی کوشش کی جارہی ہیں اور ان کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کردیا جائےگا۔

اسی بارے میں
پسند کی شادی کی سزا
08 September, 2004 | پاکستان
انڈیا:ہم جنس خواتین کی شادی
06 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد