BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 20 May, 2007, 14:18 GMT 19:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور: لڑکیوں پر مشتمل جوڑا گرفتار

دونوں کا نام ائرپورٹس کی ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں دیدیا گیا تھا
پولیس نے لاہور سے اس مفرور جوڑے کو گرفتار کرلیا ہے جس کے بارے میں سرکاری میڈیکل بورڈ کہہ چکا ہے کہ میاں بیوی دونوں ہی لڑکیاں ہیں۔ جوڑے کی گرفتاری کا حکم کوئی ڈیڑھ ہفتے پہلے ہائی کورٹ نے جاری کیا تھا۔

فیصل آباد پولیس کے انسپکٹر میاں خالد نے بی بی سی کو بتایا کہ ان دونوں کو سنیچر اور اتوار کی شب لاہور میں راوی ٹاؤن کے علاقے سے گرفتار کرکے فیصل آباد منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس کے بقول وہ کرائے کے مکان میں قیام پذیر تھے اور ان کی لاہور موجودگی کی اطلاع پولیس کو اپنے ذرائع سے مل چکی تھی۔

شازینہ اور شمائل راج نے آٹھ مہینے پہلےگھر سے بھاگ کر شادی کی تھی۔ آپس میں شادی کرنے والے شازینہ اور شمائل راج کا اصرار ہے کہ ان میں سے ایک لڑکی اور دوسرا لڑکا ہے۔

ان کے وکیل زبیر افضل رانا کے مطابق شمائل بظاہر مرد نظر آتا ہے کیونکہ اس کی آواز بھی مردانہ ہے اور اس کی باقاعدہ مونچھیں ہیں اور شیو کرتا ہے اور فیصل آباد میں اس کا کاروں کی خرید وفروخت کا کاروبار ہے۔

لیکن عدالت کے حکم پر ہونے والی طبی جانچ میں ڈاکٹروں نے قرار دیا تھا کہ شمائل طارق نے اگرچہ جنس تبدیلی کا آپریشن کروا رکھا ہے لیکن وہ بطور مرد جنسی فعل انجام دینے کے قابل نہیں ہے۔

یہ طبی معائنہ ہائی کورٹ میں شازینہ کے والد کے اس بیان کے بعد ہوا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ شمائل راج ایک لڑکی ہے اور اسلامی معاشرے میں دو لڑکیوں کی آپس میں شادی نہیں ہوسکتی۔

میڈیکل رپورٹ آنے کے بعد عدالت نے دونوں کو گرفتار کرکے عدالت پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ان دونوں کی بیرون ملک روانگی پر بھی حکومت نے پابندی لگا دی تھی اور دونوں کا نام ائرپورٹس کی ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں دیدیا گیا تھا۔

ضلعی پولیس افسر اسلم ترین نے بتایا کہ دونوں کے خلاف حقوق نسواں کے نئے قانون کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور منگل کو عدالت میں پیش کر دیا جائے گا۔

فیصل آباد پولیس نے ان دونوں کو لیڈیز پولیس سٹیشن کی حوالات میں رکھا ہوا ہے۔ان کے وکیل زبیر افضل رانا نے کہا کہ دو روز پہلے ان کا مفرور جوڑے سے رابطہ ہوا تھا اور انہوں نے مشورہ دیا تھا کہ انہیں عدالت کے روبرو اپنی گرفتاری پیش کر دینی چاہیے اور ابھی وہ مشورہ پر کوئی فیصلہ بھی نہیں کر سکے تھے کہ انہیں گرفتار کرلیا گیا۔

اسی بارے میں
انڈیا:ہم جنس خواتین کی شادی
06 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد