’فروخت شدہ‘ لڑکی کی مدد کی اپیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حیدرآباد میں جوئے میں ہار دی گئی ایک سولہ سالہ لڑکی کی ماں نے حکام سے مدد کی درخواست کی ہے۔ پاکستان کے جنوبی شہر میں خاتون نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنی بیٹی کی جان کا خطرہ ہے۔ نوراں بی بی نے بتایا کہ ان کے مرحوم شوہر نے لال حیدر نامی ایک شخص کو وعدہ کیا تھا کہ وہ جوئے میں ہاری ہوئی دس ہزار روپے کی رقم کے عوض اپنی بیٹی اسے دے دیں گے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق نوراں بی بی نے بتایا کہ جب ان کے شوہر نے لال حیدر سے وعدہ کیا تھا کہ وہ رقم کے بدلے ان کی بیٹی لے سکتا ہے تو اس وقت رشیدہ ایک برس کی تھی۔ جب رشیدہ سترہ برس کی ہوئی تو لال حیدر اسے لینے آ گیا حالانکہ اس دوران انہوں نے قرض بھی ادا کر دیا تھا۔ نوراں بی بی کے مطابق لال حیدر نے رشیدہ کو حوالے نہ کرنے کی صورت میں دھمکی بھی دی تھی۔ دونوں گھرانوں کا تعلق ایک ہی قبیلے سے ہونے کی وجہ سے یہ معاملہ قبیلے کے بڑوں کے سامنے پیش کیا گیا جنہوں نے رشیدہ کو لال حیدر کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔ نوراں بی بی کی درخواست پر اب یہ معاملہ پولیس کے ہاتھ میں ہے اور پولیس نے لال حیدر اور قبیلے کے بڑوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ خواتین سے متعلق قوانین میں حالیہ تبدیلیوں کے باوجود پاکستان کے قبائلی اور دیہی علاقوں میں قرض اور قتل کے بدلے میں لڑکیوں کی شادیاں عام ہیں۔ گزشتہ سال نومبر میں حکمران مسلم لیگ (ق) نے پارلیمان میں ایک قانونی ترمیم متعارف کی تھی جس کے تحت اس قسم کی شادیاں غیرقانونی قرار دے دی گئی ہیں اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے کو تین سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ | اسی بارے میں چار سالہ لڑکی کی ونی پر گرفتاریاں09 February, 2007 | پاکستان کلفٹن سے آٹھ لڑکیاں ’اغواء‘04 December, 2006 | پاکستان کیا زبردستی مسلمان کیا گیا؟13 March, 2006 | پاکستان افغان لڑکی سے ’زیادتی‘پرشکایت27 July, 2006 | پاکستان سندھ: تیرہ سالہ ونی لڑکی قتل25 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||