جنسیات کی تعلیم بے اثر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں طالب علموں کو جنسی تعلقات سے باز رکھنے کے لئے شروع کئے گئے تربیتی پروگرام کے موثر ہونے کے بارے میں شکوک کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں ہونے والی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اس خصوصی پروگرام میں شامل طالب علموں کے رشتہ ازدواج سے قبل جنسی عمل میں ملوث ہونے کے امکانات پروگرام کا حصہ نہ بننے والے طالب علموں جتنے ہی ہیں۔ ریپبلیکن پارٹی دور کے پچھلے چند سالوں کے دوران غیر ازدواجی جنسی تعلقات کی حوصلہ شکنی کے لئے شروع کئے گئے ان پروگراموں پر اخراجات ایک کروڑ ڈالر سے بڑھ کر سترہ کروڑ ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ مقاصد کے حصول میں یہ پروگرام ناکام رہے ہیں۔ سماجی قدامت پسندوں کا کہنا ہےکہ جنسیات اور امتناع حمل سے متعلق تعلیم
کانگریس کے کہنے پر شروع کی گئی اس تحقیق میں امریکہ کےبڑے شہروں سے لیکر چھوٹے دیہات تک سے طلبا کو شامل کیا گیا تھا۔ جنسی عمل سے پرہیز کے لئے شروع کئے گئے پروگرام میں شمولیت کے وقت بیشتر کی عمریں گیارہ سے بارہ سال کے درمیان تھیں۔ طلبا کے ان ہم عصروں کو بھی تحقیق میں شامل کیاگیا تھا جو کبھی ان خصوصی پروگراموں کا حصہ نہیں رہے تھے۔ تحقیق کے نتائج کے مطابق پروگرام سے گزرنے والے طالب علموں نے بھی تقریباً اتنی ہی عمر میں جنسی عمل میں حصہ لیا جتنی عمر میں ان لوگوں نے لیا تھا جو اس پروگرام میں شامل نہیں تھے، اور یہ عمر ہے چودہ سال اور نو ماہ۔ بش انتظامیہ نے خبر دار کیا ہے کہ اس تحقیق سے کوئی معنی خیز نتیجہ نکالنے کی کوشش نہ کی جائے۔ | اسی بارے میں سیکس اسکینڈل: کانگریس کی تفتیش06 October, 2006 | آس پاس کویتی عدالت نے احمد کو امل مان لیا26 April, 2004 | آس پاس مالڈووا میں جنسی تجارت12 July, 2004 | آس پاس قیدی کی لاٹری لگ گئی11 August, 2004 | آس پاس ’تبدیلیِ جنس انسانی حق ہے‘06 January, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||