کویتی عدالت نے احمد کو امل مان لیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کویت کی ایک عدالت نے ایک پچیس سالہ شخص کو جنس کی تبدیلی کے آپریشن کے بعد سرکاری طور پر عورت تسلیم کر لیا۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ پہلا موقعہ ہے کہ کویت کی کسی عدالت نے تبدیلئ جنس کو سرکاری طور پر تسلیم کیا ہو۔ عدالت کو بتایا گیا تھا کہ ہامونوں کے عدم توازن کے سبب تبدیلئ کے آپریشن سے پہلے پچیس سالہ نوجوان کو انتہائی سخت جسمانی اور ذہنی تکلیف سے گزرنا پڑا ہے۔ کویت سے شائع ہونے والے اخبار عرب ٹائمز کے مطابق پچیس سالہ احمد نے جنس کی تبدیلی کے بعد اپنا نام امل رکھنے کے لئے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ ان کے وکیل نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ انہوں نے عدالت کے سامنے جامعہ الاظہر سے جاری ہونے یہ فتویٰ پیش کیا تھا جس میں کہا گیا ہے کہ طبی وجوہات کی بنا پر جنس کی تبدیلی جائز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سنی اسلام کا سب سے بڑا علمی مرکز جامعہ الاظہر طبی وجوہات کی بنا پر جنس کی تبدیلی کو جائز تسلیم کرتا ہے۔ ابھی تک اس فیصلے کی توثیق اعلیٰ عدالتوں سے ہونا باقی ہے جس میں ایک ماہ تک کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ ’عدالت نے اس لئے ہمارے حق میں فیصلہ دیا ہے کیونکہ یہ طبی وجوہات کی بنا پر جنس کی تبدیلی ہے اور کوئی تیسری جنس والا کیس نہیں ہے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||