فوکرحادثہ:’ نا اہلی اور کوتاہی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزارت دفاع کے پارلیمانی سیکریٹری سید تنویر حسین نے بدھ کی شام قومی اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملتان میں فوکر طیارے کی تباہی کی وجہ محکمانہ نا اہلی اور کوتاہی تھی۔ انہوں نے دس جولائی کو ملتان میں فوکر طیارے کے حادثے میں پینتالیس افراد کی ہلاکت پر افسوس ظاہر کیا اور ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ ’یہ حادثہ پی آئی اے کے شعبہ انجنیئرنگ کی نا اہلی اور پائلٹوں کی ناتجربہ کاری کے سبب پیش آیا‘۔ انہوں نے بتایا کہ تحقیقاتی رپورٹ وزارت دفاع کو موصول ہوگئی ہے اور جلد وزیراعظم کو بھجوائی جائے گی اور ذمہ دار لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ بہت جلد تحقیقاتی رپورٹ ایوان میں بھی پیش کردیں گے تاکہ قوم کو اصل حقائق سے آگاہ کیا جاسکے۔ سید تنویر حسین نے بتایا کہ تباہ ہونے والے فوکر طیارے کے انجن کا ایک ٹربائن کا بیئرنگ خراب تھا اور انجنیئرنگ کے شعبہ سے وابسطہ افراد نے ایک مخصوص آلہ سے اس کو تبدیل کرنے کی بجائے ہتھوڑے مارکر پھنسایا جو بعد میں گِھس گِھس کر ٹوٹ گیا۔
انہوں نےبتایا کہ جب اڑان بھرنے کے لیے طیارہ رن وے پر آیا تو بلیک باکس سے آواز آئی اور ایک پائلٹ نے دوسرے سے پوچھا کہ کیا انجن میں خرابی ہے تو دوسرے نے کہا کہ ہاں دایاں انجن بند ہوگیا۔ لیکن اس کے باوجود بھی پائلٹوں نے پرواز جاری رکھی اور فضا میں دوسرا انجن جو پہلے ہی کمزور تھا وہ طیارے کو نہیں سنبھال سکا اور حادثہ پیش آیا۔ پارلیمانی سیکریٹری نے بتایا کہ ’دونوں پائلٹ کم تجربہ کار تھے اور پی آئی اے کے شیڈولنگ محکمے نے یہ جانتے ہوئے بھی ان کی ڈیوٹی لگائی‘۔ اس انکشاف پر حزب مخالف کے بعض اراکین نے سخت احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔ | اسی بارے میں پاکستان میں فوکر طیاروں کے حادثے 10 July, 2006 | پاکستان پی آئی اے کا طیارہ تباہ، پنتالیس ہلاک10 July, 2006 | پاکستان فوکر حادثہ: تحقیقات میں بیرونی مدد11 July, 2006 | پاکستان کراچی: طیارے کے ٹائر ناکارہ ہوگئے17 April, 2007 | پاکستان ریڈار سسٹم،اپ گریڈنگ درکار02 May, 2007 | پاکستان پاک فضائیہ کا طیارہ تباہ، پائلٹ ہلاک13 March, 2007 | پاکستان پاک فضائیہ کا طیارہ گر کر تباہ16 October, 2003 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||