BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 02 May, 2007, 17:55 GMT 22:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ریڈار سسٹم،اپ گریڈنگ درکار

ریڈار(فائل فوٹو)
ریڈار سسٹم فرانس سے لیا گیا تھا اور وہ اپنی مقررہ مدت پوری کر چکا ہے(فائل فوٹو)
وزارتِ دفاع کے پارلیمانی سیکرٹری میجر ریٹائرڈ تنویر حسین نے قومی اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے’ائر ٹریفک کنٹرول سسٹم‘ میں کئی نقائص ہیں اور ریڈار نظام اپنی مقررہ مدت پوری کر چکا ہے۔

حکومتی اراکین اسمبلی کے توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طیاروں کے اترنے اور اڑنے کے نظام کی نگرانی کرنے والا طیارہ سات ماہ سے خراب ہے اور اس کی جگہ پاک فضائیہ کا ایک طیارہ کام کر رہا ہے۔

ان کے مطابق فضائیہ کے طیارے میں وہ سہولیات نہیں ہیں جو ’بیچ کِنگ ائر 200‘ نامی نگرانی کرنے والے طیارے میں ہیں اور اس طیارے کی خرابی کی وجہ سے ’وی وی آئی پی‘ پروازوں کی سکیورٹی بھی خطرات سے خالی نہیں۔

پارلیمانی سیکرٹری نے ایوان کو بتایا کہ سول ایوی ایشن کے تمام نظام کی نگرانی پر مامور طیارے کی خرابی کے بعد بھارت کا ایک طیارہ پاکستان کے ایک ہوائی اڈے کے اوپر پرواز کرتا رہا لیکن سول ایوی ایشن اتھارٹی کو پتہ ہی نہیں چلا۔

پارلیمانی سیکرٹری نے سردار بہادر خان سیہڑ کے سوال کے جواب میں کہا کہ ملتان میں گزشتہ برس تباہ ہونے والا فوکر طیارہ جس میں پینتالیس افراد ہلاک ہوگئے تھے،’فنی کوتاہیوں‘ کے نتیجے میں تباہ ہوا اور سیفٹی سے متعلق عملہ اس کوتاہی کا ذمہ دار ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملتان طیارہ حادثہ کی رپورٹ تیار ہے لیکن ان کے پاس نہیں ہے۔ان کے مطابق’حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ ایسی جگہ ہے جس کا وہ بتا نہیں سکتے کیونکہ انہیں ابھی چھ ماہ نوکری کرنی ہے‘۔

 ملتان میں گزشتہ برس تباہ ہونے والا فوکر طیارہ جس میں پینتالیس افراد ہلاک ہوگئے تھے،’فنی کوتاہیوں‘ کے نتیجے میں تباہ ہوا اور سیفٹی سے متعلق عملہ اس کوتاہی کا ذمہ دار ہے
پارلیمانی سیکرٹری،وزارتِ دفاع

تنویر حسین گیلانی نے کہا کہ ملتان میں تباہ ہونے والا طیارہ ریڈار نظام کی خرابی کی وجہ سے بھارت جا رہا تھا اور پائلٹ سے کہا گیا کہ’واپس آؤ کیا دلی جانا ہے؟‘۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ریڈار سسٹم فرانس سے لیا گیا تھا اور وہ اپنی مقررہ مدت پوری کر چکا ہے لہذا اُسے فوری طور پر ’اپ گریڈ‘ کرنے کی ضرورت ہے۔

مہناز رفیع اور گلِ فرخندہ کے سوالات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سول ایوی ایشن میں بعض ایسے افراد کو تعینات کیا گیا ہے جن کا تعلق اس پیشے سے ہی نہیں ہے۔ ان کے مطابق آئل انڈسٹری سے وابستہ ایک شخص کو اعلیٰ عہدے پر فائز کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد