لاہور:ٹریفک پولیس کا پہلا سکھ افسر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں ٹریفک پولیس کے پہلے سکھ افسر نے بدھ کو لاہور کی سڑک پر اپنی پہلی ڈیوٹی سرانجام دی لیکن ان کے ساتھی اہلکاروں نے شکوہ کیا ہے کہ ان کی وجہ سے ٹریفک درست ہونے کی بجائے الٹا اس میں خلل پڑ رہا ہے۔ پچیس برس کے گلاب سنگھ ان پونے تین ہزار نئے بھرتی ہونے والے ٹریفک وارڈنز میں شامل ہیں جو یکم مئی سے لاہور میں ٹریفک کا نظام سنبھال لیں گے جس کے بعد روائتی ٹریفک پولیس کو لاہور سے خیرباد کر دیا جائےگا۔ گلاب سنگھ کی ڈیوٹی لاہور چھاؤنی کی ایک ایسی سڑک پر لگائی گئی ہے جس کا نام پاک فوج کے ایک افسر میجرعزیزبھٹی کے نام پر رکھا گیا ہے یہ فوجی افسر ہندوستان سے جنگ کےدوران ہلاک ہوئے تھے اور انہیں نشان حیدر سے نوازا گیا تھا۔ تقسیم ہند کے بعد لاہور کے شہریوں نے پہلی بار کسی سکھ پولیس افسر کو ڈیوٹی سرانجام دیتے دیکھا اور لوگ گاڑیاں روک کر ان سے ہاتھ ملاتے، نمستے کرتے، واہےگرو کی جے اور ست سری اکال کے نعرے لگاتے رہے۔ سب انسپکٹر گلاب سنگھ نے کہا کہ یہ تجربہ خودان کے لیے خوشگوار اورحیرت انگیز تھا وہ جس کار والے کو یہ سمجھانے کے لیے آگے بڑھتے کہ اپنی گاڑی سٹاپ لائن سے پیچھے لے جائیں وہ گاڑی سے اتر کر آجاتا ان سے مصافحہ کرتا ، گلے لگاتا اور ان سے متعلق سوال جواب کرنے لگا جاتا۔انہوں نے کہا کہ گاڑی میں اگر زیادہ لوگ سوار ہوتے تو ہر ایک کی خواہش ہوتی کہ وہ ان سے کوئی نہ کوئی سوال ضرور کرے۔ گلاب سنگھ سے کئی بچوں نے آٹو گراف بھی لیے لیکن ان کی یہ تمام پذیرائی ان کی ڈیوٹی میں رکاوٹ بھی بنی رہی۔ گلاب سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ لوگوں کے اکٹھے ہونے سےگاڑیاں رک جاتیں جس سے ٹریفک جام ہو جاتا ہے اور ان کےساتھیوں کوآگے بڑھ کر ٹریفک کھلوانا پڑتا۔ گلاب سنگھ نے کہاکہ ایک مرحلے پر ان کے افسرٹریفک سارجنٹ نے خوشگوار لہجے میں کہا کہ ’ آپ کو بلایا تو ٹریفک رواں رکھنے کے لیے ہے لیکن الٹا آپ کی وجہ سے ٹریفک جام ہو رہا ہے‘۔ سکھ پولیس افسر نے کہا کہ اپنے سینئر کے مشورے پر وہ کچھ دیر کے لیے سڑک سے ہٹ گئے تھے اور درخت کے سائے میں کھڑے ہوئے تو ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کی گاڑی گذری اور انہوں نے دوبارہ انہیں ڈیوٹی پر بھیج دیا۔ لاہور کےشہریوں کو ان کی نیلی پگڑی دور سے ہی نظر آجاتی ہے گلاب سنگھ کو ٹریفک پولیس حکام نے ٹوپی کی جگہ پگڑی پہننے کی خصوصی اجازت دے رکھی ہے تاہم اس پر پنجاب پولیس کابیج لگایا گیا ہے۔ گلاب سنگھ لاہور کے نواحی گاؤں چہل میں اپنے والدین کے ہمراہ قیام پذیر ہیں اور وہ ان چند سکھ گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے تقسیم ہند کے وقت پاکستان سے ہجرت نہیں کی تھی۔ گلاب سنگھ کہتے ہیں کہ ان کے داد ایشر سنگھ نے کہا تھا کہ’ یہ دھرتی میری ہے میں اسے نہیں چھوڑوں گا‘۔ گاؤں کے مسلمانوں نے ان کے خاندان کی حفاظت کی تھی اور ان کی زندگیاں اوراملاک محفوظ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے دادا کو اپنے فیصلے پر کبھی پشیمانی نہیں ہوئی اور وہ تو اپنے دادا کے فیصلے پربہت ہی خوش ہیں۔ پنجاب پولیس میں ان کی بھرتی گذشتہ برس ہوئی تھی جس کے بعد تربیت کا سلسلہ شروع ہوا انہوں نے کہا کہ تربیت کےدوران بھی انہیں مذہبی آزادی رہی اور ان کے مذہبی تہوار پر انہیں چھٹی بھی ملتی رہی۔ انہوں کہا کہ چودہ اپریل کو راولپنڈی کے نواحی قصبے سہالہ کے پولیس ٹریننگ کیمپ میں ان کی پاسنگ آؤٹ تقریب تھی اور اسی روز بیساکھی کا تہوار بھی تھا۔ سنہ سولہ سو ننانوے میں اسی روز سکھ مذہب کی بنیاد رکھی گئی تھی گلاب سنگھ نے کہا کہ ان کے ٹرینر نے انہیں تیرہ اپریل کو حسن ابدال جانے کی اجازت دیدی انہوں نے تقریب میں شرکت کی اور اگلی صبح اشنان کرکے تقریب سے تین گھنٹے پہلے واپس پہنچ گئے۔ گلاب سنگھ اور ان کے ساتھ پاس آوٹ ہونےوالے ٹریفک پولیس اہلکار کم از کم گریجویٹ ہیں اور انہیں پولیس کے دیگر اہلکاروں کے مقابلے میں دوگنی تنخواہ دی جارہی ہے۔ گلاب سنگھ اور ان کے ساتھیوں کی تنخواہ سالانہ اضافے کے بعد اب اٹھارہ ہزار روپے کے قریب ہے۔ ان اہکاروں کو ٹریفک وارڈنز کانام دیا گیا ہے اور وہ روائیتی پولیس اہلکاروں کی جگہ کام کریں گے۔ | اسی بارے میں ’بلوچستان میں کالی ماتا کا سہارا‘12 April, 2007 | پاکستان مندر مسمار، ہندوؤں کا احتجاج18 March, 2007 | پاکستان جسٹں بھگوان داس کی تعیناتی چیلنج31 March, 2007 | پاکستان کراچی میں ہندو برادری کا احتجاج02 April, 2007 | پاکستان ’ اقلیتوں کی کوئی نہیں سنتا‘ 08 February, 2007 | پاکستان ’گرو کے سچے سیوک‘12 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||