BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان: سکیورٹی فورسز کے چھاپے

بلوچستان: فائل فوٹو
بلوچستان سے اس طرح کی کارروائیوں کی اطلاعات آتی رہتی ہیں
بلوچستان کے مختلف علاقوں سے سیکیورٹی فورسز کے سرچ آپریشن کی اطلاعات ہیں۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار عطاءاللہ مینگل نے کہا ہے کہ حکومت ایسی کارروائیوں سے لوگوں کو اشتعال دلانا چاہتی ہے۔

خضدار کی تحصیل وڈھ کے قریب واقع دیہات سچارو میں آج صبح آٹھ سے دس گاڑیوں میں سوار سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے سرچ آپریش شروع کر دیا لیکن کچھ نہ ملنے کے بعد واپس چلے گئے ہیں۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار عطاءاللہ مینگل نے وڈھ سے ٹیلیفون پر بتایا ہے کہ اس کارروائی کے دوران دیہات میں مرد نہیں تھے ۔ انھوں نے کہا کہ اس طرح کی کارروائیاں لوگوں کو اشتعال دلانے کے لیے کی جا رہی ہیں تاکہ وہ کسی طرف سے رد عمل ظاہر ہو تاکہ وہ مکمل آپریشن شروع کر سکیں اب ان کی خواہش اور ہماری شامت کب آتی ہے یہ معلوم نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے یہ کہا گیا تھا کہ بلوچستان میں صرف دو تحصیلوں میں مسئلہ ہے لیکن فوجی کارروائی کا سلسلہ تو گوادر سے سندھ کے ساتھ سرحدی علاقے اور پھر ڈیرہ بگٹی کوہلو سراوان کے علاقے مستونگ اور جھلاوان کے علاقہ قلات تک پھیل گیا ہے۔ اب یہ معلوم نہیں کہ یہ دو تحصیلیں کہاں کہاں تک پھیلی ہوئی ہیں۔

سردار عطاءاللہ مینگل نے کہا کہ حکومت رٹ کے نام پر چاہتی ہے کہ ہر بندہ ان کے سامنے سر بسجود ہو۔ پر ہم نے یہ درس اپنے آباو اجداد سے سیکھا نہیں ہے۔

ان سے جب پوچھا کہ بلوچ قوم پرست جماعتیں بھی تو متحد نہیں ہیں تو انھوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان جماعتوں کی سرگرمیاں اس سطح پر نہیں آئیں اور حکومت دراڑیں ڈالنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ ’اس وقت بات سیاسی پارٹیوں کی نہیں، بات ہے لوگوں کی تحریک کی اور ان لوگوں کا کسی جماعت سے تعلق نہیں ہے اور کی وابستگی اس سرزمین سے ہے۔

اس کے علاوہ ادھر کوئٹہ کے جنوب میں واقع شہر جیسے مستونگ قلات کے علاوہ سبی اور کاہان کے مضافاتی علاقوں سے لوگوں نے بتایا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے مختلف مقامات پر چھاپے مارے ہیں لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

اسی بارے میں
احتجاج پر متعدد گرفتاریاں
05 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد