BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 12 April, 2007, 18:12 GMT 23:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’قبائیلوں کو فوج کی مدد حاصل تھی‘
قبائلی لشکر کو فوج کی مدد حاصل تھی: پرویز مشرف
پاکستان کے صدر جنرل مشرف نے کہا کہ جنوبی وزیرستان میں القاعدہ کے کارکنوں کے خلاف کارروائی کرنے والے قبائیلوں کو پاکستان فوج کی مدد حاصل تھی۔

پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے وانا میں غیر ملکیوں کے خلاف ہونے والی جنگ کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اب اسی طرح کی کارروائی شمالی وزیرستان میں بھی شروع کی جا سکتی ہے۔

عالمی دہشت گردی اور مشترکہ سکیورٹی کے عنوان سے اسلام آباد میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں ہونے والے سمپوزیم کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ جنوبی وزیرستان میں تین سو کے قریب غیر ملکیوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

جنوبی وزیرستان میں غیر ملکیوں کی ہلاکت سے متعلق متضاد دعوے ہوتے ہیں اور جنرل مشرف کی طرف سے تین سو غیر ملکیوں کی ہلاکت پہلی بار کیا گیا ہے۔ پاکستان کی فوج نے دو سو کے قریب ہلاکتوں کا دعوی کیا تھا۔

صدر مشرف نے اپنے خطاب کے دوران دہشت گردی اور انتہا پسندی پر تفصیل سے بات کی اور اس حوالے سے القاعدہ اور طالبان کے خلاف پاکستان کی طرف سے اٹھائے جانے والےاقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔

صدر مشرف نے کہا کہ دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے کسی کو پاکستان کے عزم اور نیت پر شبہہ نہیں کرنا چاہیے۔

صدر مشرف نے کہا کہ مقامی قبائلیوں اور ملکوں سے ہونے والے معاہدے میں طے پایا ہے کہ وہ غیر ملکی طالبان اور القاعدہ کے عناصر کو اپنے علاقوں میں پناہ نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک میں حکومت پاکستان اور قبائل کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بارے میں غلط فہمیاں اور عدم اعتماد پایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عسکری قوت سے اس مسئلہ کا حل نہیں ڈھونڈا جاسکتا بلکہ اس علاقے کے لوگوں کے ساتھ باہمی اعتماد اور یقین کی فضا قائم کرنا ہوگی۔

صدر نے کہا کہ الزام تراشی کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے اور دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے امریکہ، افغانستان اور پاکستان کے درمیان معلومات اور انٹیلیجنس کا زیادہ مؤثر اور فوری تبادلے کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ طالبان افغانستان کا مسئلہ ہے اور اس سے افغانستان میں نمٹا جانا چاہیے۔

صدر مشرف نے طالبان رہنما ملا عمر کی پاکستان میں موجودگی کے حوالے سے لگائے جانے والے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ملا عمر کبھی بھی پاکستان کی سرزمین پر موجود نہیں تھے۔

بلوچستان کے بارے میں انہوں نے کہا وہاں کوئی پاکستانی طالبان موجود نہیں ہے اور جو بھی طالبان وہاں موجود ہیں ان کا تعلق افغانستان سے ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کی سرحد پر بتیس ایسے چیک پوسٹیں ہیں جہاں پر سکیورٹی کا کوئی اہلکار موجود نہیں ہوتا اور طالبان ان چیک پوسٹوں سے با آسانی آتے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب پاکستان نے افغانستان کے ساتھ سرحد پر باڑ لگانے کی بات کی تھی تو بہت سے ملکوں نے اس تجویز کی مخالفت شروع کر دی تھی۔

انہوں نے کہا کہ سرحد کے آر پار ہونے والی غیر قانونی نقل و حرکت کو روکنے کی ضرورت ہے اور پاکستان اس سلسلے میں تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد