BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 10 April, 2007, 21:23 GMT 02:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی: پولیس موبائل نذرِ آتش

شنی تحریک کے جلوس کی فائل فوٹو
کراچی کے نشتر پارک کے سانحے کے بعد گزشتہ سال نو مئی کو سنی تحریک کی جانب سے نکالے جانے والا تعزیتی جلوس ایک جناح روڈ سے گزر رہا ہے
کراچی کے علاقے لائنز ایریا میں دو مذہبی گروہوں میں تین روز سے جاری کشیدگی نے منگل کی شب شدت اختیار کرلی، جس کے دوران پولیس موبائل کو نذر آتش کیا گیا اور فائرنگ میں ایک شخص زخمی ہوگیا ہے۔

تین روز قبل اتوار کو اہل حدیث مسلک کی مسجد سے مرکزی جمعیت اہل حدیث سندھ کے رہنما یوسف قصوری کے خطبے پر علاقے کے لوگوں نے مسجد کا گھیراؤ کرلیا تھا۔

پولیس کی ایک بھاری نفری نے پہنچ کر مولوی یوسف کو اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔ بعد میں برگیڈ تھانے میں مولوی یوسف قصوری کے خلاف پیغمبر اسلام کی توہین کا مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔

مولوی یوسف کی رہائی کے اطلاع پر اہلسنت جماعتوں نے سخت رد عمل کا اظہار کیا اور سنی تحریک نے اس پر پورے شہر میں احتجاج کی دہمکی دی تھی۔

منگل کی رات کو دس بجے کے قریب جب پولیس اہلکار بیانات قلمبند کرنے علاقے میں پہنچے تو اچانک فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا اور پولیس اہلکاروں نے بھاگ کر جان بچائی۔

نامعلوم لوگوں نے پولیس موبائل کو آگ لگا دی ، چھتوں سے نامعلوم افراد نے پوزیشن سنبھال لی، فائرنگ میں ایک شخص شہزاد زخمی ہوگیا۔

لائنز ایریا کی گلیوں سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ ’غلامی رسول میں موت بھی قبول ہے‘ کے نعرے لگاتے ہوئے سڑک پر نکلے آئے اور سڑک پر رکاوٹیں کھڑی کرکے آگ لگائی گئی۔

سنی مقررین جواز بیان کرتے ہیں
 پولیس کو کہا تھا کہ جب تک یہ معاملہ حل نہیں ہوجاتا مسجد کو سیل کیا جائے مگر پولیس نے یہ بات نہیں مانی جس وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوگئی ہے

اس دوران بکتر بند سمیت پولیس کی ایک بھاری نفری پہنچ گئی۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے پولیس سے مطالبہ کیا کہ وہ پیغمبر اسلام کی توہین کرنے والوں اور مسجد سے فائرنگ کرنے والوں کو فوری گرفتار کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’انہوں نے پولیس کو کہا تھا کہ جب تک یہ معاملہ حل نہیں ہوجاتا مسجد کو سیل کیا جائے مگر پولیس نے یہ بات نہیں مانی جس وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوگئی ہے‘۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکام نے کارروائی نہیں کی تو انہیں مسجدوں سے قبضے خالی کروانے آتے ہیں۔

بعض مقررین کا کہنا تھا کہ پولیس کو مسجد کے اندر داخل ہوکر ان لوگوں کو گرفتار کرنا چاہیے مگر پولیس حکام نے اس سے انکار کر دیا ۔ رات گئے تک صورتحال کشیدہ تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد