BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 26 May, 2006, 12:36 GMT 17:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تحقیقات: سنی تحریک کا بائیکاٹ

نشتر پارک دھماکے میں ستاون افراد ہلاک ہوئے تھے
کراچی نشتر پارک بم دھماکے کے تحقیقاتی ٹربیونل نے اپنی تفتیش کا آغاز کردیا ہے جبکہ اہل سنت جماعتوں نے اس ٹربیونل پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس رحمت حسین جعفری پر مشتمل ٹربیونل کے سامنے جمع کے روز کراچی پولیس کے سربراہ نیازصدیقی، ڈی آئی جی منظور مغل اور میڈیکل بورڈ کے ارکان پیش ہوئے۔

عدالت نے تحقیقاتی افسران منظور مغل، سرفراز احمد اور مقتولین اور زخمیوں کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹروں احمد علی میمن، ڈاکٹر شفیع اور دیگر سے جرع کی۔

جسٹس رحمت حسین جعفری نے پولیس تحقیقات کو ناکافی قرار دیا اور کہا کہ پولیس تحقیقات میں یہ پہلو شامل ہی نہیں ہے کہ واقعے کے وقت موبائیل سروس بند کیوں تھی۔

عدالت نے ایس ایس پی ثنااللہ عباسی کو تفتیشی افسر مقرر کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ وہ یہ معلوم کریں کہ اس وقت موبائیل سروس بند تھی یا نہیں، اگر بند تھی تو وہ کونسےحالات تھے اور ان کا ذمے دار کون ہے۔ انہوں نے یہ رپورٹ دو جون تک پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے ڈاکٹروں سے معلوم کیا کہ انہوں نے میڈیکل سرٹیفیکیٹ میں یہ کیوں نہیں لکھا کہ کے جو ٌچھرے زخمیوں کو لگے ان کا اور زخم کا کیا سائیز تھا اور وہ کس رخ میں لگے ہیں کیا آنکھیں بند کرکے سرٹیفیکٹ جاری کئے گئے ہیں۔

جسٹس جعفری نے کہا کہ دھماکے میں زخمی ہونے والے لوگوں کا پھر سے طبی معائنہ کروایا جائے تاکہ اس بات کا تعین ہوسکے کہ کس رخ سے ٌچھرے لگنے کی وجہ سے وہ زخمی ہوئے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ٹی وی چینلز کی ریکارڈنگ بھی اہمیت کی حامل تھی جسے تفتیش میں مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔ اسے بھی تفتیش میں شامل کیا جائے۔

عدالت نے تفتیشی افسر سے معلوم کیا کہ جب دھماکہ ہوا ہے اس وقت چنگاری نکلی تھی، جب چنگاری نکلی ہے تو ہوسکتا ہے فائرنگ والاہتھیار استعمال کیا گیا ہو کیا پولیس نے اس کی تحقیقات کی ہے۔

جسٹس رحمت جعفری کا کہنا تھا کہ پولیس اور ڈاکٹروں نے کیس کا ستیاناس کردیا ہے۔

عدالت نے استغاثہ کو بھی ہدایت کی کہ وہ گواہوں کے تفصیلات پیش کریں۔ جس کے بعد سماعت پانچ جون تک ملتوی ہوگئی۔

کراچی میں گیارہ اپریل کو عیدمیلادالنبی کے جلسے میں ہونے والے بم دھماکے میں ستاون سے زائد لوگ ہلاک ہوئے، جن میں سنی تحریک کی قیادت بھی شامل ہے ۔

کراچی پولیس کے سربراہ نیاز صدیقی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جج صاحب کو تفتیش کے حوالے سے کچھ تحفظات ہیں جنہیں دور کیا جائیگا۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس کے پاس تمام شواہد موجود اور محفوظ ہیں جو کیس ثابت کرنے کےلئے کافی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب تک کی تفتیش سے یہ ہی معلوم ہوا ہے یہ خودکش حملہ تھا۔جو انسانی سر ملا تھا اس کی اب تک شناخت نہیں ہوئی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ اس سر کی جو لوگ شناخت کرنے آئے تھے ان کی ڈی این اے رپورٹ نگیٹو ثابت ہوئی ہے۔

عدالت میں موجود سنی مومنٹ کے رہنما شاہ سراج الحق نے بتایا کہ ہماری جماعت کی جانب سے بھی وکیل عدالت میں پیش ہوگا ہم دیگراہلسنت جماعتوں کو بھی گزارش کر رہے ہیں کہ وہ عدالت میں پیش ہو ں تاکہ ملزمان کو بے نقاب کیا جاسکے۔

دوسری جانب سنی تحریک کے رہنما شاہد غوری نے بتایا کہ اہل سنت جماعتوں کی جانب سے ٹربیونل پر عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے اور اہل سنت رہبر کونسل کے فیصلے کے تحت کوئی بھی ٹربیونل میں نہیں پیش ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ ٹربیونل نے گواہ اور ثبوت پیش کرنے کو کہا ہے، ’اگر ہمارے پاس یہ ہوتے تو ہمیں انہیں سر عام پیش کرتے، یہ کام تو تحقیقاتی اداروں کا ہے۔‘

واضح رہے کہ اہل سنت جماعتوں نے نشتر پارک سانحے کے ملزمان کی عدم گرفتاری پر ہفتے کے روز ملک گیر ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ جس کی اے آر ڈی اور ایم ایم اے سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں نے حمایت کی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد