BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 01 April, 2007, 13:27 GMT 18:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وانا: جھڑپوں میں چھ افراد ہلاک

وانا میں جھڑپیں دو ہفتوں سے جاری ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں مقامی قبائل اور غیرملکی شدت پسندوں کے درمیان وقفے وقفے سے جاری جھڑپوں میں سنیچر کی رات چھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

اس طرح انیس مارچ سے شروع ہونے والی اس لڑائی میں مجموعی طور پر لگ بھگ 200 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اتوار کے روز جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا سے موصولہ اطلاعات کے مطابق قبائل اور ازبک شدت پسندوں کے درمیان کلوشہ، شین ورسک، شاہ غنڈی اور غوا خواہ کے مقامات پر وقفے وقفے سے تازہ جھڑپوں میں چھ افراد مارے گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والے مقامی جنگجوؤں کے سربراہ مولوی نذیر کے حامی بتائے جاتے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ زیڑی نور کالونی میں تعینات پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی طرف سے شین ورسک کے علاقے پر گولہ باری کی گئی ہے تاہم سرکاری ذرائع نے اس کی تردید کی۔

ٹیلی فون ایکسنج بدستور خراب؟
 صدر مقام وانا میں ٹیلی فون ایکسچینج بدستور کئی روز سے خراب ہے جبکہ مقامی لوگ الزام لگاتے ہیں کہ حکومت جان بوجھ کر ٹیلی فون نظام درست نہیں کرنا چاہتی تاکہ جنوبی وزیرستان میں جاری کاروائیوں کی رپورٹنگ ذرائع ابلاغ میں نہ ہوں۔
یہ بھی اطلاعات ہیں کہ وانا میں امن کمیٹی کے رکن خادین کے بیٹے سنیچر کی رات لڑائی میں ہلاک ہوگئے ہیں تاہم آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ اس سے قبل بھی امن کمیٹی کے رکن پر حملے میں ان کے چار حامی مارے گئے تھے جبکہ وہ خود حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے۔

ادھر یہ بھی اطلاعات ہیں کہ مولوی نذیر اور ان کے حامیوں کی جانب سے وانا میں مسجدوں سے اعلانات کیے جارہے ہیں جس میں مقامی قبائل کو کہا جارہا ہے کہ وہ ازبکوں کو علاقے سے نکالنے کے لیے گھروں سے باہر نکلیں۔

صدر مقام وانا میں ٹیلی فون ایکسچینج بدستور کئی روز سے خراب ہے جبکہ مقامی لوگ الزام لگاتے ہیں کہ حکومت جان بوجھ کر ٹیلی فون نظام درست نہیں کرنا چاہتی تاکہ جنوبی وزیرستان میں جاری کارروائیوں کی رپورٹنگ ذرائع ابلاغ میں نہ ہوں۔

مقامی قبائلیوں اور غیرملکی خصوصاً ازبک جنگجوؤں کے درمیان یہ جھڑپیں وانا کے مغرب میں ژہ غنڈئی، کلوشہ، اعظم ورسک اور شین ورسک کے علاقوں میں انیس مارچ کو شروع ہوئی تھیں تاہم بعد ازاں مقامی جرگے کی کوششوں کی وجہ سے عارضی جنگ بندی ہوئی تاہم چند دن کی عارضی جنگ بندی کے بعد یہ لڑائی دوبارہ شروع ہوگئی۔

مقامی جنگجوؤں کے سربراہ مولوی نذیر نے ان غیرملکیوں کو غیرمسلح اور علاقہ بدر کرنے تک جنگ جاری رکھنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

باجوڑ حملے کے اثرات
کیا وزیرستان معاہدہ برقرار رہ سکے گا؟
پاکستان پر بھی طالبان کے سایےامن کے لیے خطرہ
پاکستان پر بھی طالبان کی بڑھتی طاقت کے سائے
سیاہ شیشوں پر تنازع
وزیرستان: مقامی و غیر ملکیوں میں کشیدگی
طالبان(فائل فوٹو)پنجابی طالبان کون؟
وزیرستان کے نئے جنگجو:عامر احمد خان
قبائلکون کس کے ساتھ ہے؟
جنوبی وزیرستان میں لڑنے والے قبائل کون ہیں؟
لعل خانوانا ایک ویرانہ
وزیرستان میں اب کوئی بولنے کو تیار نہیں ہے
قبائل اور سیاست
وانا میں دو ہفتوں سے بجلی نہیں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد