جہاد پر اکسانے کا الزام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل کلاچی میں ایک شخص نے سرکاری سکول کے ایک استاد پر اپنے بیٹے اور دیگر شاگردوں کو ’زبردستی جہاد‘ پر بھجوانے کا الزام لگایا ہے۔ کلاچی تحصیل میں مڈی علاقے کے رہائشی انعام اللہ خان گنڈاپور نے مقامی تھانے میں رپورٹ درج کرائی ہے جس میں تحصیل مڈی میں واقعے گورنمٹ ہائی سکول میں عربی کے استاد قاری ضیاء الدین قریشی پر اپنے طلبہ کی سوچ و خیالات تبدیل کرنے کا الزام لگایا ہے۔ انعام اللہ کا رپورٹ میں کہنا ہے کہ اس کے بیٹے محمد ذکریا کو جو نویں جماعت کا طالب علم تھا اور سولہ فروری سے لاپتہ ہے قاری ضیاء الدین نے جہاد کے لیے اُکسا کر افغانستان بھیج دیا ہے۔ انہوں نے اسی طرح ایک اور شخص محمد ابراہیم کے بیٹے کو بھی ’جہاد‘ کے لیے بھیجا ہے۔ ان کا الزام تھا کہ ان کے بیٹے کو عربی کے پرچے والے دن ورغلا کر بھیجوا دیا گیا۔ تھانہ کلاچی کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ رپورٹ درج کرنے کے بعد تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاہم ابھی کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ محرر اللہ داد کا کہنا تھا کہ ’اس معاملے میں ابھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔‘ قاری ضیاء الدین مڈی کی جامع مسجد ابو بکر صدیق میں امام کے فرائض بھی انجام دیتے ہیں۔ انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق ان طالب علموں کے والدین کو صوبہ پنجاب کے علاقے ڈوڈیاں سے احسان اللہ ولد ثناء اللہ نامی کسی شخص نے پیغام بھیجا ہے کہ یہ لڑکے ان کے پاس ہیں اور قاری ضیاء کو اس سلسلے میں کچھ نہ کہا جائے۔ تاہم اس شخص کے ان لڑکوں کو رکھنے کا مقصد ابھی واضح نہیں۔ غیرمصدقہ اطلاعات کے مطابق ان کا تعلق بھی کسی ’جہادی تنظیم‘ سے بتایا جاتا ہے۔ پاکستان میں تشویشناک حد تک بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی کے واقعات کے تناظر میں یہ غالباً پہلی مرتبہ ہے کہ کسی شخص نے کسی استاد پر اس قسم کا باقاعدہ الزام لگایا ہو۔ | اسی بارے میں یہ شارع عام نہیں16 October, 2003 | صفحۂ اول میرا پیّا گھر آیا19 October, 2003 | صفحۂ اول وانا: حکومت کی ’ کامیابی‘ پر شبہات30 March, 2004 | صفحۂ اول جواب کتاب میں ملے گا؟22 September, 2006 | صفحۂ اول ڈیورنڈ لائن تسلیم کرنے کا مطالبہ26 January, 2007 | صفحۂ اول افغان مہاجرین کے چار کیمپ بند20 February, 2007 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||