افغان مہاجرین کے چار کیمپ بند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت پاکستان اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین نے ملک میں اس سال افغان پناہ گزینوں کے چار کیمپ بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان میں سے دو صوبہ سرحد جبکہ باقی دو بلوچستان میں ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین یا یو این ایچ سی آر کے ایک بیان کے مطابق پندرہ جون تک پہلے مرحلے میں صوبہ سرحد میں کچہ گڑھی کیمپ جبکہ بلوچستان میں جنگل پیر علیزئی کیمپ بند کیئے جائیں گے۔ دوسرے مرحلے میں پندرہ جون سے صوبہ سرحد میں جلوزئی اور بلوچستان میں گردی جنگل نامی کیمپ کی بندش کا عمل شروع ہوگا جو اکتیس اگست تک مکمل طور پر بند کر دیئے جائیں گے۔ بیان کے مطابق ان کیمپوں کے مکینوں کے پاس دو راستے ہوں گے۔ وہ یا تو یو این ایچ سی آر کی امداد سے رضاکارانہ طور پر واپس جا سکیں گے یا پھر وہ ان کیمپوں میں منتقل کر دئیے جائیں گے۔ ماضی میں ان کیمپوں کے پناہ گزین مختلف وجوہات کی بناد پر واپس جانے سے انکار کرتے رہے ہیں۔ لیکن اب واضع نہیں کہ وہ اس نئی ڈیڈلائن پر رضامند ہوں گے یا نہیں۔ حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ ان کیمپوں میں ناصرف جرائم پیشہ افراد پناہ لیتے ہیں بلکہ وہ لوگ بھی جو افغانستان جا کر حکومت اور اتحادی افواج کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لیتے ہیں۔ البتہ حکومت کو کئی مواقعوں پر مختلف دباو کی وجہ سے ان کیمپوں کی بندش کا فیصلہ موءخر کرنا پڑا ہے۔ پاکستان میں اس وقت پچیس لاکھ سے زائد افغان پناہ گزین مختلف کیمپوں میں مقیم ہیں۔ | اسی بارے میں افغان پناہ گزین مزید مشکلات سے دو چار10.04.2002 | صفحۂ اول پناہ گزینوں کی وطن واپسی میں کمی06.08.2002 | صفحۂ اول امداد کی جزوی معطلی 27.01.2003 | صفحۂ اول اقوام متحدہ: عراقی پناہ گزین واپس نہ بھیجیں11.03.2003 | صفحۂ اول سب سے زیادہ پناہگزینوں کا میزبان17 June, 2004 | صفحۂ اول سندھ: 31 ہزار افغان پناہ گزین واپس 04 August, 2004 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||