| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ شارع عام نہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے حکام نے متحدہ مجلس عمل کے ایک سات رکنی وفد کو علاقے میں داخل ہونے نہیں دیا۔ وفد کا کہنا تھا کہ وہ اس نیم خود مختار علاقے میں گزشتہ دنوں القاعدہ کے خلاف کاروائی کے بارے میں حقائق اکٹھے کرنا چاہتے تھے۔ متحدہ مجلس عمل کے ڈپٹی پارلیمانی رہنما لیاقت بلوچ کے سربراہی میں جنوبی وزیرستان جانے والے اس وفد کو جنڈولہ کے مقام پر حکام نے روک لیا۔ اس موقعے پر سخت حفاظتی اقدامات کئے گئے تھے۔ انہیں بتایا گیا کہ قانون کے مطابق قبائلی علاقے میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی ہے لہذا انہیں جانے کی اجازت نہیں۔ اس موقع پر موجود لوگوں سے خطاب میں ایم ایم اے کے رہنماؤں نے حکومتی فیصلے کی مذمت کی۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ ایک جانب منتخب اراکین کو قبائلی علاقے جانے کی اجازت نہیں جبکہ امریکی ایف بی آئی کو کھلی چھٹی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کے وزیرِ اطلاعات شیخ رشید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ایم ایم اے کا ایک وفد وزیرستان جا رہا ہے۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی تھی کہ گزشتہ دنوں وزیرستان میں آپریشن میں القاعدہ کا ایک اہم رکن ہلاک ہو گیا تھا جو ایف بھی آئی کو مطلوبہ افراد کی لسٹ میں شامل تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||