سمجھوتہ کے زخمی پاکستان پہنچ گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے علاقے پانی پت کے قریب مبینہ طور پر تخریب کاری کا نشانہ بننے والی ٹرین سمجھوتہ ایکسپریس کے پاکستان سے تعلق رکھنے والے زخمی مسافروں میں سے سات کو جمعرات کی رات پاک فضائیہ کے 130-C طیارے کے ذریعے لاہور لایا گیا ہے۔ ان زخمیوں میں سے دو کی حالت نازک بتائی جاتی ہے جبکہ باقی پانچ کو لاہور سے ان کے آبائی علاقوں کی طرف روانہ کر دیا گیا ہے۔ پاک فضائیہ کا طیارہ زخمیوں کو لے کر لاہور کے پرانے ایئر پورٹ پر اترا تو پنجاب کے وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الہی، وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی اور طبی ماہرین کی ایک ٹیم موقع پر موجود تھے۔ لاہور ایئر پورٹ پر میو ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر فیاض رانجھا بھی موجود تھے۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ زخمیوں میں سے ایک نوسالہ بچے شمیم کی حالت بہت نازک تھی اور اسے مصنوعی تنفس فراہم کر کے میوہسپتال منتقل کیا گیا ہے، جہاں اس کی حالت پہلے سے تو بہتر ہے لیکن خطرے سے باہر نہیں ہے۔ ایک اور زخمی اشوک کمار کی حالت بھی نازک بتائی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر فیاض رانجھا کے مطابق ابتداء میں کہا گیا تھا کہ دلی میں زیر علاج بیس
ڈاکٹر رانجھا کے مطابق کہا جا رہا ہے کہ چند زخمی ایسے بھی ہیں جن کے شناختی کاغذات جل گئے ہیں اور اب انہیں پاکستان منتقل کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ پاکستان نے واقعہ کے فوراً بعد زخمیوں کو لانے کے لیے جہاز ہندوستان بھجوانے کا اعلان کیا تھا، لیکن پاکستانی حکام کے مطابق ہندوستان سے بر وقت اجازت نہ ملنے کی وجہ سے تاخیر ہوئی۔ ادھر اطلاعات کےمطابق سمجھوتہ ایکسپریس کے واقعہ میں ہلاک ہونے والے پاکستانیوں کی مزید لاشیں جمعہ کے روز واہگہ کے راستے لاہور پہنچنے کا امکان ہے۔ | اسی بارے میں قصوری دلی میں، زخمیوں سےملاقات20 February, 2007 | پاکستان لاہور: لواحقین کو ویزے جاری20 February, 2007 | پاکستان سمجھوتہ کے مسافر کراچی پہنچ گئے20 February, 2007 | پاکستان ’انڈیانےمعلومات بروقت نہیں دیں‘20 February, 2007 | پاکستان ہلاک شدگان کی ابتدائی فہرست20 February, 2007 | پاکستان لواحقین کے لیے خصوصی ٹرین19 February, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||