سمجھوتہ کے مسافر کراچی پہنچ گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے شہر پانی پت کے قریب مبینہ تخریب کاری کا نشانہ بننے والی ٹرین سمجھوتہ ایکسپریس کے دو سو ستر کے قریب مسافر سندھ ایکسپریس کے ذریعے منگل کی شام کراچی پہنچ گئے ہیں۔ کینٹ سٹیشن پر سمجھوتہ ایکسپریس کے کراچی سے تعلق رکھنے والے مسافروں کے استقبال کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے اور بڑی تعداد میں مسافروں کے رشتےدار ٹرین کی آمد سے پہلے ہی پلیٹ فارم پر پہنچ چکے تھے۔ جیسے ہی سندھ ایکسپریس پلیٹ فارم پر پہنچی تو لوگوں نے بھاگ کر بوگیوں میں اپنے پیاروں کو تلاش کرنا شروع کر دیا۔اس دوران پلیٹ فارم پر خوشی اور غم کا ملا جلا ماحول تھا، کچھ لوگ آنسو بہا رہے تھے کہ کچھ اپنے پیاروں کو صحیح سلامت دیکھ کر خوش ہو رہے تھے۔ ان مسافروں میں کراچی کی مسز شاہ محمد بھی شامل تھیں، جنہوں نے اپنے بچے کو زندہ بچایا تھا۔
مسز شاہ محمد نے بتایا کہ ابھی ٹرین کو دلی سٹیشن سے روانہ ہوئے ڈیڑھ گھنٹہ ہوا تھا اور مسافر لیٹے ہی تھے کہ اچانک دھماکہ ہوا جس سے آگ لگ گئی اور لوگوں نے چیخنا چلانا شروع کردیا۔ ان کے مطابق دروازے بند تھے اور لوگ ٹرین روکنے کے لیے چلا رہے تھے۔ پانی پت میں پھاٹک آنے پر کوئی پندرہ منٹ کے بعد ٹرین رک گئی اور ان کے ڈبے کا ایک دروازہ کھل گیا۔ مسز شاہ محمد نے بتایا کہ وہ دروازہ کے قریب بیٹھے تھے اس وجہ سے گاڑی کی رفتار کم ہوتے ہی انہوں نے چھلانگ لگا دی اور ان کے شوہر دو بچوں کو باہر لے کر آئے مگر دھوئیں کی وجہ سے وہ بے ہوش ہوگئے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا ایک بچہ گاڑی میں رہ گیا تھا، جس کو نکالنے کے لیے وہ پھر ٹرین کے ڈبے میں داخل ہوئیں اور اندھیرے اور دھویں میں بچے کو آواز دیتی ہوئی آخر کار بچے کو باہر نکالنے میں کامیاب ہوگئیں۔ ان کا کہنا تھا ’انہیں ابھی تک یہ سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ یہ سب کچھ حقیقت میں ہوا ہے یا خواب میں‘۔ انہوں نے بتایا کہ تین سکھوں نے مسافروں کو نکالنے کی کوشش کی مگر وہ بھی جلتی ہوئی بوگی میں پھنس کر فوت ہوگئے۔
کینٹ سٹیشن کے پلیٹ فارم پر سمجھوتہ ایکسپریس میں سوار مسافر محمد جمیل کی بیٹی بھی موجود تھیں، وہ سارے مسافروں کے روانہ ہونے تک وہاں موجود رہیں مگر ان کے والد کا کوئی پتہ نہیں چل سکا۔ انہوں نے بتایا کہ رشتہ داروں نے ٹیلی فون پر انہیں اطلاع دی تھی کہ ان کے والد دلی سے روانہ ہوگئے ہیں جس کے بعد سے اب تک ان سے کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریلوے کے پاس مسافروں کی جو فہرست ہے اس میں محمد جلیل تحریر ہے اس لیے وہ یہ سوچ کر سٹیشن آگئی تھیں کہ شاید نام لکھنے میں غلطی ہوگئی ہے ۔ | اسی بارے میں لاہور: لواحقین کو ویزے جاری20 February, 2007 | پاکستان ’انڈیانےمعلومات بروقت نہیں دیں‘20 February, 2007 | پاکستان ہلاک شدگان کی ابتدائی فہرست20 February, 2007 | پاکستان ’سمجھوتہ ایکسپریس تخریب کاری کا نشانہ‘19 February, 2007 | پاکستان لواحقین کے لیے خصوصی ٹرین19 February, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||