BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 February, 2007, 14:40 GMT 19:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی: متاثرینِ سمجھوتہ کا انتظار

کینٹ سٹیشن
سمجھوتہ ایکسپریس پر سوار کراچی سے تعلق رکھنے والے مسافروں کا کینٹ سٹیشن پر انتظار
اتوار اور پیر کی درمیانی شب ہندوستان کے مقام پانی پت کے قریب مبینہ طور پر تخریب کاری کا شکار ہونے والی ٹرین سمجھوتہ ایکسپریس میں کراچی سے تعلق رکھنے والے مسافر بھی سوار تھے۔

لاہور سے زخمیوں اور دیگر مسافروں کی منگل کو بذریعہ ٹرین کراچی آنے کی اطلاع پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد کینٹ ریلوے سٹیشن پر پہنچ گئی۔

محمد اکبر اپنی اہلیہ کے ہمراہ اپنی والدہ اور ماموں کو لینے آئے ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایا گزشتہ رات ساڑھے دس بجے ان کا ماموں سے رابطہ ہوا تھا، جنہوں نے بتایا کہ وہ اور والدہ دونوں زخمی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل انہوں نے ہندوستان میں اپنے رشتہ داروں سے رابطہ کیا اور کراچی کینٹ سٹیشن کے کئی چکر لگائے مگر کچھ معلوم نہیں ہو رہا تھا۔

محمد رشید اپنی والدہ اور چھوٹی بہن کو لینے آئے ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ساری رات پریشانی میں جاگ کر گزاری ہے، کھانا پینے کو دل نہیں چاہ رہا۔ ’جب تک ماں اور بہن کو سامنے نہیں دیکھ لیتا سکون نہیں آئے گا‘۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ہندوستان کی پولیس ناکارہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ماہ پہلے وہ بھی ہندوستان گئے تھے اور واپسی پر دلی سٹیشن پر پولیس والوں نے روکا اور پوچھا کہ بیگ میں کیا ہے، اس کے بعد انہوں نے ایک آلے کی مدد سے بے دھیانی کے ساتھ تلاشی لیتے ہوئے دس روپے مانگ لیے۔ ’جہاں پیسہ اور رشوت چلے گی وہاں تو کچھ بھی ہوسکتا‘۔

زخمیوں کو ہسپتال تک لے جانے کے لیے بڑی تعداد میں ایمبولینس بھی موجود تھیں

اسٹشین پر ایک خاتون بھی موجود تھیں جو اپنی چھوٹی بہن کو لینے آئی ہوئی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ رات کو تین بجے ٹی وی پر حادثے کی خبر سننے کے بعد سے ان کا سارا وقت پریشانی میں گذرا ہے اور ابھی تک بہن سے براہ راست کوئی رابطہ نہیں پایا، بس بعض رشتہ داروں سے سنا ہے کہ وہ خیریت سے ہے۔

محمد سلیم پورے خاندان کے ساتھ چھوٹے بھائی کو لینے آئے ہوئے تھے اور بھائی کی خیریت کی اطلاع پانے پر مطمئن نظر آرہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ پیر کو وہ سارا دن ٹی وی کےسامنے بیٹھے رہے اور بھائی کی خیریت کے لیے دعا کرتے رہے۔

کینٹ سٹیشن پر سکاؤٹس نے کیمپ لگایا ہوا تھا جبکہ زخمیوں کو ہسپتال تک لے جانے کے لیے بڑی تعداد میں ایمبولینس بھی موجود تھیں۔

اسی بارے میں
لاہور: لواحقین کو ویزے جاری
20 February, 2007 | پاکستان
اٹاری: مسافروں کی فہرست
19 February, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد