شادی اور میت کا ایک ہی راستہ۔۔۔ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سید افتخار علی کا تیرہ سالہ بیٹا عمر حسین بے چینی سے والدین اور اپنے تحائف کا منتظر تھا، مگر منگل کے روز اسے پتہ چلا کہ اس کے والد افتخار علی ٹرین حادثے میں جھلس کر فوت ہوگئے ہیں۔ بھارت کے شہر پانی پت میں سمجھوتہ ایکسپریس پر دھماکوں کے بعد آگ کے واقعے میں کراچی کے بفرزون کے رہائشی افتخار علی، ان کی بیوی اشرف جہاں، ڈھائی سالہ بیٹی مہک، چھوٹا بیٹا حسان، بہن رضیہ سلطانہ اور بہنوئی اظہر حسین اس واقعے میں ہلاک ہوگئے جن کی میتیں بدھ کی شب لاہور سے کراچی پہنچائی گئی ہیں۔ سید عمر حسین اور ان کے چھوٹے بھائی فواد بھی والدین کے ساتھ ہندوستان میں اپنے ننھیال جانا چاہتے تھے، مگر امتحانات کی وجہ سے وہ نہ جاسکے۔ عمر حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی والد سے ایک ہفتہ پہلے بات ہوئی تھی اور انہوں نے بتایا تھا کہ وہ واپس آرہے ہیں اور انہوں نے ان کے لیے تحائف بھی لیے ہیں۔ افتخار علی کے گھر کے باہر تعزیت کے لیے آنے والوں کے لیے تنبو لگایا گیا ہے۔ ان کے خاندان سے اس حادثے پر پورے محلے میں ہی ماحول سوگوار تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ٹرین میں سوار ہونے سے ایک دن قبل آنے کا بتایا تھا۔ ان سے گھروالوں نے کپڑوں سمیت کئی چیزیں منگوائیں تھیں کئی فرمائشیں کی تھیں۔ انوار علی نے بتایا کہ انہوں نے ڈاکٹر سے کہا کہ مہربانی کر کے ان کی بھائی سے بات کروائیں، جس پر انہوں نے معذرت کرتے ہوئے کہا وہ بات نہیں کرسکتے پھر انہوں نے بتایا کہ ایسا کچھ ہوگیا ہے۔ انوار علی نے بھائی کے فوت ہونے کی اطلاع اپنے تک رکھی اور اگلے روز (منگل) انہوں نے باقی لوگوں کو بتائی۔ ان کے ایک بھائی پیر کو ہی لاہور روانہ ہوگئے تھے جو سمجھوتہ ایکپریس میں بھائی اور بہن کو تلاش کرتے رہے۔ انوار علی کے مطابق پوری ٹرین میں تلاش کرنے کے بعد بھائی نے ٹیلی فون پر روتے ہوئے کہا کہ کوئی نہیں ہے۔ انہوں نے بھائی کو واپس آنے کو کہا ۔ افتخار علی کی شادی انیس سال قبل ہندوستان میں ہی ہوئی تھی اور ان کی بارات ٹرین میں ہی گئی تھی اور واپس بھی اسی راستے آئی تھی، جہاں سے دونوں میاں بیوی اور دونوں بچوں کی میتیں لائی جائیں گی۔ افتخار علی کی ڈھائی سالہ بیٹی مہک سب گھر والوں کی آنکھ کا تارہ تھیں، جس کی ہندوستان میں طبیعت خراب ہوگئی تھی۔ انوار علی نے بتایا کہ مہک کا دل وہاں نہیں لگا تھا، وہ یہاں کے لوگوں کو یاد کرکے بیمار ہوگئی تھی، ان کے بھائی کو اگلے ہفتے والی گاڑی میں آنا تھا مگر بچی کی وجہ سے جلد روانہ ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ حسان علی کو قاری چھٹی نہیں دے رہےتھے مگر وہ جانے پر بضد تھا، اس نے کہا تھا کہ وہ وہاں بھی قرآن حفظ کرتا رہے گا۔ افتخار علی ٹیلرِنگ کا کام کرتے تھے جبکہ ان کے بہنوئی اظہر حسین سٹیل ملز کی ملازمت سے ریٹائر ہوئے تھے۔ افتخار علی کے چار بھائی اور تین بہنیں ہیں، ایک بہن ان کے ساتھ اس حادثے میں فوت ہوگئیں۔ انوار علی نے بتایا کہ انہیں ذاتی طور پر کچھ نہیں پتہ کہ کیا ہوا تھا، انہوں نے صرف ٹی وی میں سنا تھا کہ ٹرین میں دھماکہ ہوا تھا، اب ’کوئی بچا ہی نہیں جو انہیں حقیقت بتائے۔‘ |
اسی بارے میں راجستھان ضلع سے تین زیرِ حراست22 February, 2007 | انڈیا ٹرین دھماکے: مشتبہ افراد کے خاکے20 February, 2007 | انڈیا لاشوں کی شناخت پر متضاد دعوے21 February, 2007 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||