BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 21 February, 2007, 14:50 GMT 19:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانی شہری پانی پت پہنچے

شہزاد
شہزاد کے رشتے دار اگر زخمیوں میں نہ ہوئے تو وہ ڈی این اے ٹیسٹ کا انتظار کریں گے
سمجھوتہ ایکسپریس میں بم دھماکوں سے ہلاک ہونے والوں کے رشتے دار اب پاکستان سے پانی پت پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔

بدھ کو نو پاکستانی شہری پانی پت پہنچے اور لاشوں کی شناخت کی ہر ممکن کوشش کی۔اب تک کل 18 لاشوں کی شناخت ہوئی ہے لیکن ابھی بھی بہت سی لاشوں کی ہونی باقی ہے۔

پاکستان سے آئے محمد اختر علی کہتے ہیں’پتہ نہیں چل رہا ہے کون سی لاش کس کی ہے، اتنی جلی ہوئی ہیں کہ کیا کہا جائے، جس نے بھی یہ کیا ہے بہت غلط کیا ہے۔‘

اختر کو امید ہے کہ ان کے رشتے دار محفوظ ہوں گے وہ کہتے ہیں ’ہمیں دیررات پتہ چلا کہ شاید ہمارے رشتے دار دلی سے چلے ہی نہیں، ہم دعا کرتے ہیں کہ وہ بچ گئے ہوں۔‘

 میرے بھائی، بھابھی اور ان کے دو بچے اس واقعے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ سبھی کی شناخت ہوگئی ہے کیا بتاؤں لاشیں اتنی جلی ہوئی ہیں کہ آخری بار بھی ان کے چہرے بھی نہیں دیکھ سکا، کہاں لے جائیں یہ لاشیں، یہیں دفن کروں گا، پاکستان نہیں لےجا سکتے۔
زاہد حسین

لیکن ایسے خوش قسمت سبھی نہیں ہوتے۔پاکستان کے حیدرآباد سے آئے زاہد حسین کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے چار رشتے داروں کی لاشوں کی شناخت کر لی ہے۔

پرنم آنکھوں سے وہ کہنے لگے ’میرے بھائی، بھابھی اور ان کے دو بچے اس واقعے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ سبھی کی شناخت ہوگئی ہے کیا بتاؤں لاشیں اتنی جلی ہوئی ہیں کہ آخری بار بھی ان کے چہرے بھی نہیں دیکھ سکا، کہاں لے جائیں یہ لاشیں، یہیں دفن کرونگا، پاکستان نہیں لےجا سکتے۔‘

پاکستان سے آنے والے شہزاد خاموش ہیں۔ وہ میڈیا سے بات کرنا نہیں چاہتے، کہتے ہیں’مہربانی کر کے مجھے تنہا چھوڑ دیا جائے۔‘ بار بار پوچھنے پرانہوں نے صرف اتنا کہا کہ ابھی لاش ملی نہیں ہے اور وہ اب دلی جائیں گے۔ انہیں امید ہے کہ شاید ان کا رشتے دار زخمیوں میں ہوں۔

زاہد حسین کے چار رشتے دار ہلاک ہوئے ہیں اور وہ لاشیں گھر لے جانے کے متحمل نہیں ہیں

شہزاد کہتے ہیں ’ زخمیوں میں نہیں ہوئے تو پھر ڈی این اے ٹیسٹ کا انتظار کروں گا تب ہی پتہ چل سکےگا۔‘

پاکستان سے آئے لوگوں کے سامنے سب سے بڑی مشکل لاشوں کی شناخت ہے۔ لاشیں اس قدر جلی ہوئی ہیں کہ ان کے پاس ملی چیزوں کی بنیا د پر ہی لوگوں نے ان کی شناخت کی ہے۔

واہگہ بارڈر پر محسن بھی پانی پت پہنچے ہیں۔ انہیں اپنے ابّا کی لاش کی تلاش ہے وہ میڈیا سے بات نہیں کرنا چاہتے ان کی آنکھوں میں اپنے ابّا کو آخری بار نہ دیکھ پانے کا غم صاف جھلکتا ہے۔

قرآن کی تلاوت کرتے کرتے محسن خاموش ہوئے اور پھر کہا ’ہمیں جانے دیجیئے۔‘

پاکستانی شہریوں کی آمد کے بعد مقامی پولیس کا رویہ بھی بدلہ ہوا ہے۔ پولیس میڈیا سے گزارش کر رہی ہےکہ پاکستانی لوگوں کو پریشان نہ کیا جائے۔

اسی بارے میں
اٹاری: مسافروں کی فہرست
19 February, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد