BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان سے رشتہ داروں کی آمد شروع

حیدرآباد سے آئے ہوئے زاہد حسین
حیدرآباد کے زاہد حسین کے بھائی، بھابھی اور ان کے دو بچے اس واقعے میں ہلاک ہو ئے ہیں
سمجھوتہ ایکسپریس میں بم دھماکوں سے ہلاک ہونے والوں کے رشتے دار اب پاکستان سے پانی پت پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔

بدھ کی صبح نو رشتے دار پانی پت پہنچے اور ان لوگوں نے لاشوں کی شناخت کی ہر ممکن کوشش کی۔ کچھ لاشوں کی شناحت ہوئی ہے لیکن ابھی بھی کئی لاشوں کی شناخت باقی ہے۔

واضح رہے کہ اب تک کُل 18 لاشوں کی شناخت ممکن ہو سکی ہے۔

پاکستان سے آئے محمد اختر علی کہتے ہیں’پتہ نہیں چل رہا ہے کون سی لاش کس کی ہے، لاشیں اتنی جلی ہوئی ہیں کہ کیا کہا جائے، جس نے بھی یہ کیا ہے غلط کیا ہے‘۔

مسٹراختر کو امید ہے کہ ان کے رشتے دار محفوظ ہونگے۔ انہوں نے کہا ’ہمیں دیر رات پتہ چلا کہ شاید ہمارے رشتے دار دلی سے چلے ہی نہیں، ہم دعا کرتے ہیں کہ وہ بچ گۓ ہوں‘۔

پاکستان سے آنے والے شہزاد نے میڈیا کے سوالات پر کہا ’مہربانی کر کے مجھے تنہا چھوڑ دییں‘

لیکن ایسے خوش قسمت سبھی نہیں ہوتے۔ پاکستان کے شہر حیدرآباد سے آئے زاہد حسین کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے چار رشتے داروں کی شناخت کر لی ہے۔

نم آنکھوں سے انہوں نے بتایا ’میرے بھائی، بھابھی اور ان کے دو بچے اس واقعے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ سب کی شناخت ہوگئی ہے کیا بتائیں، لاشیں اتنی جلی ہوئی ہیں کہ آخری بار بھی ان کے چہرے دیکھنے سے قاصر رہا، کہاں لے جائیں یہ لاشیں، میں یہیں دفن کرونگا، پاکستان نہیں لےجا سکتے‘۔

پاکستان سے آنے والے شہزاد میڈیا سے بات کرنا نہیں چاہتے۔ وہ کہتے ہیں ’مہربانی کر کے مجھے تنہا چھوڑ دیا جائے‘۔ بار بار پوچھنے پر انہوں نے صرف اتنا کہا کہ ابھی لاش ملی نہیں ہے اور وہ اب دلی جائيں گے، انہیں امید ہے کہ شاید ان کے رشتے دار زخمیوں میں ہوں۔ شہزاد کہتے ہیں’زخمیوں میں نہیں ہوئے تو پھر ڈی این اے ٹیسٹ کا انتظار کروں گا، تب ہی پتہ چل سکے گا‘۔

پاکستان سے آئے لوگوں کے سامنے سب سے بڑی مشکل لاشوں کی شناخت ہے۔ لاشیں اس قدر جلی ہوئی ہيں اس لیے لاشیوں کے پاس سے ملی چیزوں کی بنیاد پر ہی لوگوں نے ان کی شناخت کی ہے۔

واہگہ سرحد پر ٹی وی کیمروں کی نظروں میں آئےمحسن بھی پانی پت پہنچے ہیں۔ انہیں اپنے ابّا کی لاش کی تلاش ہے وہ میڈیا سے بات نہیں کرنا چاہتے ان کی آنکھوں میں اپنے ابّا کو آخری بار نہ دیکھ پانے کا غم صاف جھلکتا ہے۔

قرآن کی آیتیں پڑھتا محسن خاموش ہوجاتا ہے اور پھر کہتا ہے’ہمیں جانے دیجیے‘۔

پاکستان کے لوگوں کے آنےکے بعد مقامی پولیس کا رویہ تھوڑا بدلہ ہوا ہے اب پولیس میڈیا سے گزارش کر رہی ہےکہ پاکستانی لوگوں کو پریشان نہ کیا جائے۔

لاشوں کی شناخت کی جائے گی۔ کاغذی کارروائی ہوگی، شاید رشتے داروں کو دلی بھی جانا پڑے۔ پانی پت میں ابھی اور رشتے دار آنے والے ہیں۔ لہذا بار بار لاشیں دکھائی جائيں لوگوں کو اپنے رشتے داروں کے مرنے کے غم کے ساتھ لاشوں کی شناخت نہ کر پانےکا درد بھی بار بار ستائے گا۔

کراچی میں ملاپ حقیقت ہے یا خواب
ماں نے دوبارہ ٹرین میں گھس کر بچے کو بچایا
سامعہ، جہیز اور ماں
مرنے والے پیچھے دردناک کہانیاں چھوڑ گئے
ٹرین’گھرمیں کہرام ہے‘
فیصل آباد کی ایک فیملی کے 6 افراد ہلاک ہوئے
اسی بارے میں
ہلاک شدگان کے لیے معاوضہ
19 February, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد