پاکستان سے رشتہ داروں کی آمد شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سمجھوتہ ایکسپریس میں بم دھماکوں سے ہلاک ہونے والوں کے رشتے دار اب پاکستان سے پانی پت پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ بدھ کی صبح نو رشتے دار پانی پت پہنچے اور ان لوگوں نے لاشوں کی شناخت کی ہر ممکن کوشش کی۔ کچھ لاشوں کی شناحت ہوئی ہے لیکن ابھی بھی کئی لاشوں کی شناخت باقی ہے۔ واضح رہے کہ اب تک کُل 18 لاشوں کی شناخت ممکن ہو سکی ہے۔ پاکستان سے آئے محمد اختر علی کہتے ہیں’پتہ نہیں چل رہا ہے کون سی لاش کس کی ہے، لاشیں اتنی جلی ہوئی ہیں کہ کیا کہا جائے، جس نے بھی یہ کیا ہے غلط کیا ہے‘۔ مسٹراختر کو امید ہے کہ ان کے رشتے دار محفوظ ہونگے۔ انہوں نے کہا ’ہمیں دیر رات پتہ چلا کہ شاید ہمارے رشتے دار دلی سے چلے ہی نہیں، ہم دعا کرتے ہیں کہ وہ بچ گۓ ہوں‘۔
لیکن ایسے خوش قسمت سبھی نہیں ہوتے۔ پاکستان کے شہر حیدرآباد سے آئے زاہد حسین کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے چار رشتے داروں کی شناخت کر لی ہے۔ نم آنکھوں سے انہوں نے بتایا ’میرے بھائی، بھابھی اور ان کے دو بچے اس واقعے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ سب کی شناخت ہوگئی ہے کیا بتائیں، لاشیں اتنی جلی ہوئی ہیں کہ آخری بار بھی ان کے چہرے دیکھنے سے قاصر رہا، کہاں لے جائیں یہ لاشیں، میں یہیں دفن کرونگا، پاکستان نہیں لےجا سکتے‘۔ پاکستان سے آنے والے شہزاد میڈیا سے بات کرنا نہیں چاہتے۔ وہ کہتے ہیں ’مہربانی کر کے مجھے تنہا چھوڑ دیا جائے‘۔ بار بار پوچھنے پر انہوں نے صرف اتنا کہا کہ ابھی لاش ملی نہیں ہے اور وہ اب دلی جائيں گے، انہیں امید ہے کہ شاید ان کے رشتے دار زخمیوں میں ہوں۔ شہزاد کہتے ہیں’زخمیوں میں نہیں ہوئے تو پھر ڈی این اے ٹیسٹ کا انتظار کروں گا، تب ہی پتہ چل سکے گا‘۔ پاکستان سے آئے لوگوں کے سامنے سب سے بڑی مشکل لاشوں کی شناخت ہے۔ لاشیں اس قدر جلی ہوئی ہيں اس لیے لاشیوں کے پاس سے ملی چیزوں کی بنیاد پر ہی لوگوں نے ان کی شناخت کی ہے۔ واہگہ سرحد پر ٹی وی کیمروں کی نظروں میں آئےمحسن بھی پانی پت پہنچے ہیں۔ انہیں اپنے ابّا کی لاش کی تلاش ہے وہ میڈیا سے بات نہیں کرنا چاہتے ان کی آنکھوں میں اپنے ابّا کو آخری بار نہ دیکھ پانے کا غم صاف جھلکتا ہے۔ قرآن کی آیتیں پڑھتا محسن خاموش ہوجاتا ہے اور پھر کہتا ہے’ہمیں جانے دیجیے‘۔ پاکستان کے لوگوں کے آنےکے بعد مقامی پولیس کا رویہ تھوڑا بدلہ ہوا ہے اب پولیس میڈیا سے گزارش کر رہی ہےکہ پاکستانی لوگوں کو پریشان نہ کیا جائے۔ لاشوں کی شناخت کی جائے گی۔ کاغذی کارروائی ہوگی، شاید رشتے داروں کو دلی بھی جانا پڑے۔ پانی پت میں ابھی اور رشتے دار آنے والے ہیں۔ لہذا بار بار لاشیں دکھائی جائيں لوگوں کو اپنے رشتے داروں کے مرنے کے غم کے ساتھ لاشوں کی شناخت نہ کر پانےکا درد بھی بار بار ستائے گا۔ |
اسی بارے میں ہلاک شدگان کے لیے معاوضہ 19 February, 2007 | پاکستان ’سمجھوتہ ایکسپریس پر دھماکے تخریب کاری تھی‘18 February, 2007 | پاکستان پانچ ہلاکتوں کی تصدیق، چھ لاپتہ19 February, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||