’اب سامعہ کا جہیز نہیں پہنچے گا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’رضائياں ، سوٹ ، تکیے، زیور سب کچھ خریدا تھا۔ اگر جہاں آرا پاکستان پہنچ جاتیں تو سامعہ کی شادی طے کر دیتیں۔ لیکن نہ تو وہ خود پہنچ سکیں اور نہ ہی سامعہ کا جہیز‘۔ اتر پردیش کے رام پور شہر سے پانی پت پہنچنے والے ناصر علی خان یہ کہتے کہتے بچّوں کی طرح رو پڑے۔ جہاں آرا کی لاش کی شناخت ہو گئی ہے۔ آنسوں ہیں کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے۔ ناصر کہتے ہیں’ہم نے کراچی فون کیا ہے اور پوچھا ہے کہ لاش کا کیا کریں۔ وہ کہيں گے تو پاکستان لے جائیں گے نہیں تو انہیں رام پور میں ہی دفن کردیا جائے گا‘۔ ناصر علی خان کی سگی بہن جہاں آراء اپنی بیٹی کا جہیز خریدنے ہندوستان آئی تھیں اور سارا سامان خرید کر واپس پاکستان جا رہی تھیں لیکن نہ تو وہ پہنچیں اور نہ ہی سامعہ کا جہیز۔ وہ جہیز اور ساتھ ہی اس خاندان کی تمام خوشیاں سمجھوتہ ایکسپریس کے دھماکوں کی نذر ہوگئیں۔ ناصر کی بیوی ہمّت کرکے لاش کی شناخت کے بعد سامعہ کے والد مبارک علی سے بات کرنے کے لیے کراچی فون ملاتی ہیں۔
فون پر ان کا کہنا تھا ’ہماری ہی قسمت خراب تھی۔ ہم کیا جانتے تھے کہ وہ پاکستان پہنچ ہی نہیں پائیں گی ۔ ہم انہیں دو دن اور روک لیتے‘ ۔ اس اندوہناک خبر سے توجہ ہٹانے کے لیے وہ بات کا موضوع بدل دیتی ہیں۔ ناصر کی بیوی فون پر سامعہ سے کہتی ہیں’تمہارے لیے ہم نے قیمتی سوٹ بھیجے تھے، عروج کے لیے بھی زیور تھے۔ گھر کے پردے تھے۔ جہیز کے پردے تھے۔ کپڑے وغیرہ سب کچھ تھے۔ تم پریشان نہ ہونا سب کا خیال رکھنا‘۔ کسی کو نہیں پتہ کہ دوسری طرف سے سامعہ نے کیا کہا یا پھر وہ کچھ کہہ بھی پائی کہ نہیں ۔ جہیز تو ایک طرف، اب اس کی ماں بھی اب کبھی اس کے پاس نہیں پہنچ سکیں گی۔ | اسی بارے میں ٹرین دھماکے: مشتبہ افراد کے خاکے20 February, 2007 | انڈیا سمجھوتہ سکیورٹی میں اتنی غفلت کیوں؟20 February, 2007 | انڈیا ’پاکستانی مسافروں کی ہر ممکن مدد‘19 February, 2007 | انڈیا لواحقین سراپا انتظار مگر لاشوں کی شناخت دشوار20 February, 2007 | انڈیا ’مرنے والوں کی کوئی ذات ہوتی ہے‘19 February, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||