’بابو کی تصویر کیوں نہیں لا دیتے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’ بابو ہم لوگوں کی تصویرں تو لے رہے ہو، ہمارے بابو لوگوں کی تصویر کیوں نہیں لا دیتے؟‘ یہ فریاد گیا شہر کی ایک ماں کی ہے جن کا بیٹا سولہ برس بعد اپنے اہل خانہ کے ساتھ حال ہی میں ہندوستان آیا تھا اور پاکستان واپس جانے کے لیے اسی سمجھوتہ ٹرین کا ٹکٹ لیا تھا جو بم دھماکوں کا شکار ہوگئی۔ تین دن گزر گئے ہیں لیکن میمن نساء کو اپنےگیارہ رشتہ داروں کی کوئی خبر نہیں ملی ہے۔ کراچی سے فون آيا تھا لیکن وہاں سے پتہ چلا کہ وہ لوگ کراچی نہیں پہنچے ہیں۔ ٹرین میں دھماکوں کی خبر سن کر میمن نساء کے دوسرے بیٹے جاوید احمد پانی پت کے لیے روانہ ہو گئے لیکن وہاں بھی انہيں کوئی معلومات نہ مل سکیں۔ پھر جاوید نے گھروالوں کو فون کر کے بتایا کہ اب وہ شناخت کے لیے ڈی این اے ٹسٹ کروانے دلی جا رہے ہیں۔ میمن نساء کے تین بیٹوں میں سب سے بڑے بیٹے شبیر احمد بچپن میں اپنی خالہ کے پاس اورنگی ٹاؤن کراچی جا بسے تھے۔ شبیر احمد کی عمر چالیس برس بتائی گئی ہے۔ شبیر کے ساتھ ان کی اہلیہ ثمینہ (33 برس) بیٹی مصباح (16 برس) اورتین بیٹے شہباز ( 10 برس) شہریار (نو برس) اور شہروز (سات برس) تھے۔ ان کے علاوہ شبیر کے سسر اکرام اللہ (70 برس )، برادر نسبتی فخر عالم، ان کی بیوی روشن ، فخر عالم کا بیٹا شنان (13 برس) اور بیٹی البذہ (سات برس) بھی گئے تھے۔ گیا میں شبیر احمد کے گھروالوں نے بتایا کہ جوموبائل فون شبیر اور ان کے برادر نسبتی کے پاس تھے وہ کام نہیں کر رہے ہیں۔
شبیر کراچی میں پیپسی کمپنی میں سیلز مین کا کام کرتے ہیں۔ پاکستان روانہ ہونے سے قبل انہوں نے کہا تھا ’آنا جانا لگا رہے گا اور اب آپ لوگوں کی باری ہے، ضرور آئيےگا۔‘ میمن نساء کے شوہر کا چند برس قبل انتقال ہو چکا ہے، اور اب اپنے رشتے داروں کے بارے میں کوئی خبر نہ ملنے کے سبب وہ گھر ميں ہر آنے جانے والے کو بنا بولے بس دیکھتی رہتی ہیں۔ انہیں اب بھی امید ہے کہ شاید کوئی اچھی خبر سنا دے۔ جب سے اس واقعہ کی خبر ملی ہے تب سے سجدوں میں اپنے رشتےداروں کی سلامتی کی دعائيں مانگ رہی ہیں۔ | اسی بارے میں لاشوں کی شناخت پر متضاد دعوے21 February, 2007 | انڈیا پاکستان سے رشتہ داروں کی آمد شروع21 February, 2007 | انڈیا ٹرین دھماکے: مشتبہ افراد کے خاکے20 February, 2007 | انڈیا سمجھوتہ سکیورٹی میں اتنی غفلت کیوں؟20 February, 2007 | انڈیا ’پاکستانی مسافروں کی ہر ممکن مدد‘19 February, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||