شاعر محسن بھوپالی انتقال کرگئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نامور شاعر محسن بھوپالی کراچی میں بدھ کی صبح انتقال کر گئے، ان کی عمر چوہہتر برس تھی۔ محسن بھوپالی طویل عرصے سے علیل تھے۔ نمونیا کی وجہ سے وہ گزشتہ اس سے قبل 1988 میں ان کے گلے کے سرطان کا کامیاب آپریشن کیا گیا تھا۔ اس کے بعد انہیں بولنے میں دشواری ہوتی تھی مگر اس کے باوجود بھی انہوں نے زندگی کے معمولات جاری رکھے اور مشاعروں میں شرکت کرتے اور شعر پڑھتے رہے۔ محسن بھوپالی کی پیدائش 1932 میں بھوپال ہندوستان میں ہوئی۔ قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان نقل مکانی کرکے لاڑکانہ منتقل ہوگیا اور پھر کچھ عرصے کے بعد حیدرآباد میں رہائش اختیار کی۔ آخر میں وہ کراچی منتقل ہوگئے تھے۔ محسن بھوپالی پیشے کے لحاظ سے انجینئر تھے اور سندھ حکومت میں ایگزیکیٹو انجینئر کے عہدے سے 1991 میں ریٹائر ہوئے۔ ان کی وجہ شہرت بحرحال شاعری ہی تھی۔ وہ دس کتابوں کے خالق تھے۔ ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ ’شکست شب‘ انیس سو اکسٹھ میں منظر عام پر آیا۔ جس کے بعد ان کا دوسرا مجموعہ ’گرد مصافت‘ شائع ہوا۔ اس کے علاوہ ’جستہ جستہ‘ ، ’نظمانے‘ اور ’ماجرہ‘ ان کے قابل ذکر مجموعے ہیں۔ انیس سو پچاس کے عشرے میں انہیں اس وقت شہرت ملی جب تحریک پاکستان کے رہنما عبدالرب نشتر نے ایک جلسے میں ان کا یہ شعر پڑھ کر سنایا:
نیرنگیِ سیاستِ دوراں تو دیکھیئے منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے یہ شعر زبان زد عام ہوگیا اور محاورے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔ محسن بھوپالی کی شاعری میں ادب اور معاشرے کے گہرے مطالعے کا عکس نظر آتا ہے۔ انہوں نے جاپانی ادب کا اردو میں ترجمہ کیا اور ہائیکو میں بھی طبع آزمائی کی۔ اگر یہی ہے شاعری تو شاعری حرام ہے ان کی شاعری کے موضوعات معاشرتی اور سیاسی حالات ہوتے تھے۔ ان کے ایک قطعے کو بھی خوب شہرت حاصل ہوئی۔ جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائے محسن بھوپالی کے ساتھی شاعر پروفیسر سحر انصاری کا کہنا ہے کہ وہ نظموں کی طرف مائل تھے۔ ان کی شاعری میں طویل نظمیں نہیں ملتی وہ مختصر اور سمیٹ کر لکھتے تھے۔ محسن بھوپالی نے پسماندگان میں بیوہ ، چار بیٹے اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں ان کی نماز جنازہ بدھ کی شام کو ادا کی گئی۔ |
اسی بارے میں ایک گم شدہ ستارے کی بازیافت 02 September, 2005 | فن فنکار نصف صدی کا فلمی قصّہ18 December, 2006 | فن فنکار کرن دِسائی نے بُکر پرائز جیت لیا10 October, 2006 | فن فنکار درد و کرب، عزم و اُمید میں غرق25 February, 2006 | فن فنکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||