کوٹلی حادثہ: ایک اور مسافر چل بسا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں حکام کا کہنا ہے کہ جمعہ کو پہاڑی تودے کی زد میں آنے والی وین میں سوار مسافروں کی تلاش کا کام ختم کردیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس واقعہ میں پندرہ افراد ہلاک جبکہ تین زخمی ہوئے ہیں۔ ابتدا میں حکام نے کہا تھا کہ جنوبی ضلع کوٹلی میں ہولاڑ کے مقام پر ایک مسافر وین اور ایک کار پہاڑی تودے کی زد میں آگئے تھے لیکن اب ان کا کہنا ہے کہ صرف ایک مسافر وین ہی تودے کے نیچے دب گئی تھی جس میں ڈرائیور اور کنڈیکٹر سمیت کل اٹھارہ افراد سوار تھے۔ حکام کا کہنا ہے ملبے کے نیچے سے چودہ افراد کی لاشیں نکالی گئیں جبکہ چار افراد کو زندہ نکالا گیا تھا۔ ان میں سے ایک شخص بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں چل بسا۔ اس طرح ہلاک ہونے والوں کی تعداد پندرہ ہوگئی ہے۔ حکام کے مطابق اب ملبے کے نیچے کوئی مسافر نہیں ہے البتہ ان کا کہنا ہے کہ کوٹلی کو راولپنڈی سے ملانے والی شاہراہ کھولنے کے لیے کام جاری ہے جو تودہ گرنے کے باعث بند ہوگئی ہے۔ | اسی بارے میں کوٹلی: تودہ گرنے سے چودہ ہلاک06 January, 2007 | پاکستان کوٹلی، 20 سے زیادہ ہلاکتوں کا خدشہ05 January, 2007 | پاکستان تودہ گرنے سے بارہ ہلاک، دس لاپتہ03 July, 2006 | پاکستان بس پر تودہ گرنے سے سات ہلاکتیں06 January, 2006 | پاکستان برف کا تودہ گرنے سے24 ہلاک30 December, 2005 | پاکستان مٹی کا تودہ گرنے سے 4 افراد ہلاک29 December, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||