بس پر تودہ گرنے سے سات ہلاکتیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے دور افتادہ پہاڑی ضلع کوہستان میں پولیس کا کہنا ہے کہ ایک مسافر بس پر کل رات تودہ گرنے سے سات افراد ہلاک جبکہ اٹھارہ زخمی ہوئے ہیں۔ کوہستان پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کی رات ساڑھ گیارہ بجے پیش آیا جب گلگت سے راولپنڈی جانے والی ایک بس پر سازین کے مقام پر پہاڑی تودہ آگرا۔ اس سے بس سڑک سے نیچے جاگری۔ پولیس کے مطابق صبح تک اٹھارہ زخمی مسافر بس سے نکالے جاچکے تھے جنہیں چلاس کے ہسپتال میں طبی امداد کے لئے لے جایا گیا ہے۔ زخمیوں میں سے نو کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ تاہم قریب میں کوئی طبی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے سازین سے چلاس بھی کم از کم تین گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ مرنے والے سات افراد میں سے ایک کی لاش کل رات ہی نکال لی گئی تھی لیکن باقی آج صبح بس کی چھت کاٹ کر نکالی گئی ہیں۔ پندرہ چونتیس نمبر کی یہ بس سرکاری کمپنی نیٹکو کی بتائی جاتی ہے۔ نیشنل ٹرانسپورٹ کمپنی گلگت اور راولپنڈی کے درمیان یہ سروس چلاتی ہے۔ تودہ گرنے کی وجہ علاقے میں شدید بارشیں اور برف باری بتائی جاتی ہے۔ کوہستان سے گزرنے والی یہ شاہراہ قراقرم کے نام سے بھی مشہور ہے۔ اس کی ایک جانب اونچے پہاڑ تو دوسری جانب گہری کھائی میں دریائے سندھ بہتا ہے۔ پولیس اطلاعات کے مطابق حادثے کے مقام پر امریکی شنوک ہیلی پاپٹر بھی امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے کے لئے پہنچے ہیں۔ یہ ہیلی کاپٹر زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف تھے۔ گزشتہ دنوں کوہستان میں ہی ایک پہاڑی تودہ گرنے سے چوبیس کانکن ہلاک ہوگیے تھے۔ ضلع کوہستان حالیہ زلزلے سے بھی متاثرہ ہوا تھا۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||